مباحات

خدا کے نیک بندو ں کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
80867
| تاریخ :
2025-01-24
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

خدا کے نیک بندو ں کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہْ!
عرض ہے کہ کیا مولانہ قاسم نانوتوی,مولانہ رشید احمد گنگوہی,مولانہ اشرف علی تھانوی صاحب کا دعا میں وسیلہ دے سکتے ہیں کہ جب اللہ ﷻ سے دعا مانگیں اور کہیں کہ یا اللہ تعالی انکے (مزکورہ ) وسیلہ سے میری دعا قبول فرما۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اہلِ سنت والجماعۃ علمائے دیوبند کےنزدیک انبیاء، اولیاء اور نیک بندوں کے توسل سے دعا کرنا بایں طور پر کہ " اے اللہ اس نیک صالح اور برگزیدہ بندے کے واسطے سے میری دعا قبول فرما " بلاشبہ جائز اور حضرات صحابہ کرام اور تابعین عظام سے ثابت ہے، اور متعدد احادیثِ مبارکہ میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔البتہ ان میں سے کسی کو مختار مطلق سمجھ کر وسیلہ بنانا شرک ہونے کی وجہ سے شرعاناجائز وحرام ہے، اس لئے اس اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ سبحانه وتعالی: يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوْا إِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَجَاهِدُوْا فِيْ سَبِيلِه لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ (المائدۃ: 35)
وفی احکام القرآن تحت ھذہ الایة: فالاصل الطلب والوسیلۃ القربۃ التی ینبغی ان یطلب بھا اھ (۱۵۹/۶، سورۃ المائدۃ: دارالفکر)
کما فی صحیح البخاری: عن أنس بن مالك، أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال: «اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا»، قال: فيسقون (27/2، رقم الحدیث: 5261، ط: دار طوق النجاۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ ریحان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80867کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات