احکام نماز

جهت قبلہ سے ہٹ کر پڑھی ہوئی نمازیں دوبارہ لوٹانی ہوں گی یا نہیں ؟

فتوی نمبر :
79554
| تاریخ :
2024-11-26
عبادات / نماز / احکام نماز

جهت قبلہ سے ہٹ کر پڑھی ہوئی نمازیں دوبارہ لوٹانی ہوں گی یا نہیں ؟

السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ سن 2022ء میں، میں ایک بیمار کے ساتھ ہسپتال میں دو دن رہا، اور وہاں میں نے تین یا چار نمازیں غلط سمت میں پڑھیں، بعد میں مجھے پتا چلا کہ قبلے کے غلط سمت میں نمازیں پڑھی ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے وہ نمازیں (جو غلط سمت میں پڑھیں تھیں)دہرانی چاہیئے یا نہیں ؟شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ قبلہ رخ ہونا نماز کی بنیادی شرط ہے، اس کے بغیر نماز ادا نہیں ہوتی؛البتہ عین قبلہ کی سمت رخ کرکے نمازپڑھنالازم وضروری نہیں بلکہ جہت قبلہ کاپایاجانابھی نمازکی درستگی کے لیے کافی ہے،اس لیےدورانِ نماز،نمازی کی پیشانی کا کوئی نہ کوئی حصہ اگرقبلہ کی سیدھ میں باقی رہے، (جس کی تحدیدفقہاء کرام نے دونوں جانب45، 45 ڈگری مقرر کی ہے)تواس سے نمازدرست اداہوجائے گی ۔
لہذاصورت مسئولہ میں سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس نے ہسپتال میں جونمازیں قبلہ کی جہت سے ہٹ کرپڑھی تھیں اس میں قبلہ سے انحراف کس درجہ تھا،اگریہ نمازیں غلط سمت میں پڑھی گئی تھیں یاپھراس میں قبلہ سے انحراف 45ڈگری سے زائدتھااوروہاں موجودعملہ سے معلوم کرکے قبلہ کی درست سمت معلوم کی جاسکتی تھی اس کے باوجودسائل نےمعلوم کیے بغیر خودسے رخ متعین کرکے نمازیں اداکی تھیں تواس صورت میں ان نمازوں کااعادہ لازم ہے اوراگرنمازکے دوران قبلہ کی سمت سے انحراف 45ڈگری سے کم ہویاپھرقبلہ کی صحیح سمت بتانے والاہی موجودنہ ہواورسائل نےخوب تحری(غوروفکر)کرکے نمازاداکی ہوتواس کی نمازدرست اداہوچکی ہے ،ان نمازوں کااعادہ لازم نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :(‌ومنها) ‌استقبال ‌القبلة ‌لقوله ‌تعالى: {‌فول ‌وجهك ‌شطر ‌المسجد ‌الحرام ‌وحيث ‌ما ‌كنتم ‌فولوا ‌وجوهكم ‌شطره} [البقرة: 144] .
وقول النبي صلى الله عليه وسلم: «لا يقبل الله صلاة امرئ حتى يضع الطهور مواضعه، ويستقبل القبلة، ويقول: الله أكبر» ، وعليه إجماع الأمة، والأصل أن استقبال القبلة للصلاة شرط زائد لا يعقل معناه، بدليل أنه لا يجب الاستقبال فيما هو رأس العبادات وهو الإيمان، وكذا في عامة العبادات من الزكاة والصوم والحج، وإنما عرف شرطا في باب الصلاة شرعا فيجب اعتباره بقدر ما ورد الشرع به، وفيما وراءه يرد إلى أصل القياس، ثم جملة الكلام في هذا الشرط أن المصلي لا يخلو إما إن كان قادرا على الاستقبال أو كان عاجزا عنه فإن كان قادرا يجب عليه التوجه إلى القبلة إن كان في حال مشاهدة الكعبة فإلى عينها، أي: أي جهة كانت من جهات الكعبة، حتى لو كان منحرفا عنها غير متوجه إلى شيء منها لم يجز، لقوله تعالى: {فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره} [البقرة: 144] ، وفي وسعه تولية الوجه إلى عينها فيجب ذلك، وإن كان نائيا عن الكعبة غائبا عنها يجب عليه التوجه إلى جهتها، وهي المحاريب المنصوبة بالإمارات الدالة عليها لا إلى عينها، وتعتبر الجهة دون العين اھ(1/ 117)
و فی حاشية ابن عابدين: شروط ‌الصلاة ‌هي ‌ثلاثة ‌أنواع: ‌شرط ‌انعقاد: كنية، وتحريمة، ووقت، وخطبة: وشروط دوام، كطهارة وستر عورة، واستقبال قبلة اھ(1/ 401)
وفيها أيضا: (‌و) ‌السادس (‌استقبال ‌القبلة) ‌حقيقة ‌أو ‌حكما ‌كعاجز، والشرط حصوله لا طلبه، وهو شرط زائد للابتلاء يسقط للعجز، حتى لو سجد للكعبة نفسها كفر (فللمكي) وكذا المدني لثبوت قبلتها بالوحي (إصابة عينها) يعم المعاين وغيره لكن في البحر أنه ضعيف. والأصح أن من بينه وبينها حائل كالغائب، وأقره المصنف قائلا: والمراد بقولي فللمكي مكي يعاين الكعبة (ولغيره) أي غير معاينها (إصابة جهتها) بأن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة أو لهوائها، بأن يفرض من تلقاء وجه مستقبلها حقيقة في بعض البلاد خط على زوايا قائمة إلى الأفق مارا على الكعبة، وخط آخر يقطعه على زاويتين قائمتين يمنة ويسرة منح. قلت: فهذا معنى التيامن والتياسر اھ(1/ 427)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79554کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات