احکام نماز

پنجپیری حضرات کی اقتداء میں نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
79250
| تاریخ :
2024-11-10
عبادات / نماز / احکام نماز

پنجپیری حضرات کی اقتداء میں نماز پڑھنا

السلام علیکم (1) پنج پیری حضرات کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (2) اگر پڑھنا جائز نہیں ہے تو کیوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرآن و حدیث کی روشنی میں جمہور اہلِ سنت و الجماعت کا اجماعی عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور اسی طرح دیگر تمام انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ و السلام اجمعین اپنی قبور میں حیات ہیں اور ان کی حیات مثلِ دنیاوی، بلکہ اس سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے، مگر بایں ہمہ یہ حیاتِ برزخی ہےاور جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ اہلِ سنت و الجماعت سے خارج اور بدعتی ہے، جس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ لہٰذا مسجد کی انتظامیہ کمیٹی پر لازم ہے کہ وہ امامت کے منصب کےلئے ایسے شخص کا انتخاب کریں جو متقی و پرہیز گار اور صحیح العقیدہ عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ مسائلِ نماز سے اچھی طرح واقف اور قرآنِ کریم بھی اچھی طرح پڑھ سکتا ہو اور یہ کہ امتِ مسلمہ اور اہلِ سنت و الجماعت کے اجتماعی مسائل میں چھیڑ چھاڑ سے احتراز کرتا ہو، جبکہ اس امام کی اقتداء میں پڑھی گئی سابقہ نمازوں کو لوٹانے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی تکملۃ فتح الملھم: و بالجملۃ فإن ھذہ الأحادیث مع حدیث الباب تدل علی کون الأنبیاء أحیاء بعد وفاتھم، و ھو من عقائد جمھور أھل السنۃ و الجماعۃ إلخ۔ ( ج 5، ص 30 )
و فی الدر المختار: ( و یکرہ ) تنزیھا ( إمامۃ عبد ) ولو معتقا( إلی قولہ ) ( و مبتدع )أی صاحب البدعۃ و ھی اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندۃ بل بنوع شبھۃ و کل من کان قبلتنا ( لا یکفر بھا ) ( إلی قولہ ) ( و إن ) أنکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ ( کفر بھا ) ( إلی قولہ ) ( فلا یصح الإقتداء بہ أصلا ) فلیحفظ إلخ۔ ( ج 1، ص 559، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: قال المرغینانی تجوز الصلاۃ خلف صاحب ھوی و بدعۃ و لا تجوز خلف الرافضی و الجھمی و القدری و المشبھۃ و من یقول بخلق القرآن۔ و حاصلہ إن کان ھوی لا یکفر بہ صاحبہ تجوز الصلاۃ خلفہ مع الکراھۃ و إلا فلا ھکذا فی التبیین و الخلاصۃ۔ و ھو الصحیح ھکذا فی البدائع إلخ۔ ( الفصل فی بیان من یصلح إماما لغیرہ، ج 1، ص 84، ط: ماجدیۃ )۔
و فی بدائع الصنائع: و أما بیان من یصلح للإمامۃ فی الجملۃ فھو کل عاقل مسلم ( إلی قولہ ) و أما إمامۃ صاحب الھوی و البدعۃ مکروھۃ نص علیہ أبو یوسف فی الأمالی فقال أکرہ أن یکون الإمام صاحب ھوی و بدعۃ لأن الناس لا یرغبون فی الصلاۃ خلفہ و ھل تجوز الصلاۃ خلفہ قال بعض مشایخنا أن الصلاۃ خلف المبتدع لا تجوز و ذکر فی المنتقی روایۃ عن أبی حنیفۃ أنہ کان لا یری الصلاۃ خلف المبتدع و الصحیح أنہ إن کان ھوی یکفرہ لا تجوز و إن کان لا یکفرہ تجوز مع الکراھۃ إلخ۔ ( فصل و أما بیان من یصلح للإمامۃ، ج 1، ص 156۔157، ط: سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79250کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات