گندھاراانڈسٹریز لمیٹڈ میں واقع جامع مسجد حبیب میں جمعہ کی نماز کے دوران مسجد میں جگہ بھر جانے کے بعد مسجد سے باہر گارڈن میں صفیں بچھائی جاتی ہیں،مسجد اور گارڈن کے درمیان 10 فٹ کا فاصلہ ہے ،گارڈن میں نماز ادا کرنے کی صورت میں نماز ہو جائے گی؟
باجماعت نماز میں صحت اقتداء کے لیے کہ امام اور مقتدی کے درمیان حقیقتاً یا حکماً اتصال ضروری ہے ورنہ اتصال نہ ہونے کی صورت میں اقتداءدرست نہ ہوگی ،جبکہ سوال میں ذکر کردہ مسجد اور گارڈن کے درمیان 10 فٹ کا حائل راستہ شرعی طور پر امام کی اقتداء میں مانع بن رہا ہے ،اس لیے فاصلے کے ساتھ متعلقہ پارک میں نماز پڑھنے والوں کی اقتداء شرعاً درست نہیں،البتہ پارک اور مسجد کے درمیانی فاصلہ میں بھی اگر صفیں بچھا کر اتصالِ صفوف کر لیا جائے تو اس صورت میں پارک میں نماز پڑھنے والوں کی نماز بھی بلاشبہ درست ادا ہو جائےگی اور اسی کا اہتمام چاہیئے ۔
في الدر المختار: (ويمنع من الاقتداء) صف من النساء بلا حائل قدر ذراع أو ارتفاعهن قدر قامة الرجل مفتاح السعادة أو (طريق تجري فيه عجلة) آلة يجرها الثور (أو نهر تجري فيه السفن) ولو زورقا ولو في المسجد (أو خلاء) أي فضاء (في الصحراء) أو في مسجد كبير جدا كمسجد القدس (يسع صفين) فأكثر إلا إذا اتصلت الصفوف فيصح مطلقا، كأن قام في الطريق ثلاثة، وكذا اثنان عند الثاني لا واحد اتفاقا لأنه لكراهة صلاته صار وجوده. كعدمه في حق من خلفه.اھ
وفي رد المحتار: (قوله إلا إذا اتصلت الصفوف) الاستثناء عائد إلى الطريق والنهر دون الخلاء لأن الصفوف إذا اتصلت في الصحراء لم يوجد الخلاءتأمل، وكذا لو اصطفوا على طول الطريق صح إذا لم يكن بين الإمام والقوم مقدار ما تمر فيه العجلة، وكذا بين كل صف وصف كما في الخانية وغيرها.اھ (1/ 584)۔
وفی الطحطاوی: وأن لایفصل بین الإمام والماموم نہر یمر فیه الزوروق (إلی قوله) ولا طریق تمر فیة العجلة ولیس فیه صفوف متصلة ولامنع فی الصلاة فاصل یسع فیه صفین علی المفتی بهاھ (159/1)۔