منتخب نام

ہارون،عون اور ذولقرنین نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
77534
| تاریخ :
2024-08-19
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / منتخب نام

ہارون،عون اور ذولقرنین نام رکھنا کیساہے

براہ مہربانی بچے کے لیے درج ذیل ناموں کی تفصیلات فراہم کریں، ہارون علی، عون علی، ذوالقرنین علی

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہارون نبی کا نام ہے،اور عون کا معنی مدد اور مددگار کے بھی آتے ہیں، جبکہ ذوالقرنین ایک مسلمان بادشاہ کا نام ہے، جس کے معنی ہے "دو سینگوں والا" اور اس کے اور بھی معنی ہیں جن میں سے "مشرق و مغرب کا سفر کرنے والا" "دو زلفوں والا"بھی شامل ہیں، لہٰذا سائل کا بچے کے لئے "ہارون علی" "عون علی" اور ذوالقرنین علی نام رکھنا درست ہے، تاہم "محمد ہارون" "عون محمد" "محمد ذوالقرنین" نام رکھنا زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی التفسیر المنیر: ويسئلونك اي اليهود او مشركو مكه عن ذي القرنين هو الاسكندر بن فيلبوس اليوناني وقيل الرومي ملك فارس والروم وقيل ملك المشرق والمغرب لكن الاسكندر كافر والاصح انه رجل صالح حكم الدنيا غير الاسكندر ولذلك سمي ذو القرنين او لانه طاف قرني الدنيا شرقها وغربها وقیل كان له قرنان اي ضفیرتان وقیل کان لتاجہ قرنان ويحتمل انه لقب بذلك لشجاعته ومع الاتفاق على ايمانه وصلاحہ، علم یکن علی الاصح نبیا۔(ج16،ص20 ط۔دارالفکر)۔
و فی المعجم الوسیط:"(العون) المعين من كل شيء (للمفرد وغيره مذكرا أو مؤنثا) (ج) أعوان."(ج2، ص638، ط۔دار الدعوۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77534کی تصدیق کریں
0     1133
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات