کیا فرماتے ہیں علماءکرام نماز کے چند مسائل کے بارے میں:
سائل سعودی عرب میں ہے ،اور وہاں پر چند مسائل ہیں.
1. سعودی عرب میں مساجد میں پہلی باجماعت نماز کے بعد دیر سے آنے والے لوگ مسجد میں اپنی دوسری جماعت کرواتے ہیں. کیا اس میں شامل ہونا چاہیئےیا اپنی الگ انفرادی نماز پڑھیں؟ کبھی کبھار یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ دوسری یا تیسری یا چوتھی جماعت بھی ہوتی ہے اور امام بنا شخص سنّت مثلا داڑھی وغیرہ سے محروم ہوتا ہے، اور حتیٰ کے نا بالغ بچے کو بھی جماعت کراتے دیکھا ہے. اس صورت میں کیا کیا جائے؟اگر ایسے موقع پر اپنی الگ نماز پڑھیں تو وہاں پر موجود عرب عجیب نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور کہتے ہیں " انت باکستانی مشکله ".
2. اگر عصر کی نماز کی مثال لیں . تو اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ مسجد میں دوسری یا تیسری جماعت ہو رہی ہے، ہم اس میں شامل ہو گئے، اور اس میں مثلا دورکعت رہ گئیں جو کہ امام کے سلام کے بعد اپنی پڑھنی ہے، اب کئی دفع ایسے ہوا کہ میں اپنی دو رکعت پڑھ رہا ہوں(جو کہ امام کے سلام کے بعد کی ہیں) اب بعد میں نیا نمازی یا نیا آنے والا شخص کندھے پر ہاتھ مارتا ہے اور میرے ساتھ نماز میں شامل ہو جاتا ہے ،اب یہ کہ میں امام بن گیا اور آنے والے نمازی میرے مقتدی بن گنے – اب اس صورت میں کیا کریں ، کونسا ایسا اشارہ کریں کہ انکو پتہ چلے کہ میں امام نہیں ہوں. میں تو اپنی ہی رکعت لوٹارہا ہوں یا امام بن کر انکی بھی نماز کر ڈالوں؟
3. کئی دفع ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ ایک چین تسلسل بن جاتا ہے، اپنی ہی رکعت لوٹانےوالا شخص جو کہ ایک منٹ پہلے تک تو مقتدی تھا اور اسی نماز میں وہ امام کیسے بن گیا. کیا ایسی صورت میں نماز ہوجائے گی.اب کبھی کبھار یہ بھی پتہ نہیں لگتا ،کیا یہ واقعی امام کی نیّت سے نماز پڑھ رہا ہے یا یہ مقتدی ہے جو دوران نماز امام بن گیا،
4. اگر ان صورتوں میں نماز پڑھنی پڑھ جائےتو کیا کریں ؟ – تفصیل سے آگاہ فرمائیں
5. دوران سفر اکثر عرب لوگوں کے ساتھ ہوتے ہوئےانکی ظہر اور عصر کی نماز یا مغرب عشاء کی نماز اکھٹے ہوتی ہے ، کیا انکے ساتھ دو دو نمازیں اکھٹی پڑھ لیں.؟
6. بارش کے دوران دونمازوں کی اکھٹی جماعت ،اب مغرب کے وقت بارش ہو رہی تھی ' تومغرب اور عشاء کی نماز ایک کے بعد دوسری جماعت مغرب کے وقت ہی ہوجاتی ہے، اب جب ہم مسجد پہنچے تو امام قرات کر رہا تھا، ہم بھی مغرب کی نیّت کر کے جماعت میں شامل ہوگئے جب امام چوتھی رکعت کے لئے کھڑا ہوا تب پتہ چلا کہ یہ تو عشاء کی نماز پڑھ رہا ہے ، ہم نے تو مغرب کی نماز پڑھنی تھی ، اب کیا کریں ایسی صورت میں ، مجبوراً امام کے ساتھ 4 پڑھ لیں ، لیکن مغرب کی نماز تو رہ گئی، اب اپنی مغرب انفرادی پڑھ لیں ؟
7. اگر بارش کی صورت میں مغرب اور عشاء اکھٹی پڑھنی پڑھ جائیں تو پہلے فرض ادا کر کے پھر مغرب اور عشاء کی سنّتیں اور وتر ادا کریں گے ؟ اس کی کیا ترتیب ہوگی۔
8. غیر ملکی (سعودی عرب ) میں ہونے کی وجہ سے ہمارے اکثر دوست جن کا کوئی عزیز رشتہ دار پاکستان میں فوت ہوجائے ، تو اسکا غائبانہ نماز جنازہ دیکھنے کو ملتا ہے، کہ اپنے کمرے میں ہی یا بڑی مجلس میں چند دوست اکھٹے ہو کر جنازہ ادا کرتے ہیں، کیا ایسا کرنا درست ہے، اگر ہے تو صرف قریب اقربا ء کا ہی جنازہ پڑھنا چاہیئے یا کہ ہر ایک کا ؟ کن کن لوگوں کا اس طرح غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنا چائیے ؟ اور اسکی ترتیب بھی عام جنازہ والی ہوگی، کہ ایک امام بن جاۓ ؟ اور نیّت کیا کریں گے.؟
واضح ہو کہ جس مسجد میں امام و مؤذن مقرر ہوں ، خواہ وہ جامع مسجد ہو یا عام محلّہ کی ، اور اس میں متعلقہ نمازیوں نے اذان و اقامت کے ساتھ ایک بار نماز پڑھ لی ہو ، تو ایسی مسجد میں دوسری مرتبہ حدودِ مسجد کے اندر جماعت کرانا اور اس میں شریک ہونا فقہاء احناف کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ مسجد کی حدود سے باہر اگر کوئی جگہ یا صحن اور کمرہ وغیرہ ہو ،تو وہاں دوسری جماعت کرائی جا سکتی ہے ، اور اس میں شریک ہونا بھی جائزہے تاکہ جماعت کے ثواب سے محرومی نہ ہو،البتہ فقہاء شافعیہ وحنابلہ کے نزدیک مسجد میں جماعتِ ثانیہ بلا کراہت جائز ہے، چونکہ مملکت سعودیہ میں ریاستی مسلک کے طور پر فقہ حنبلی رائج ہے، اس لیے وہاں اکثر مساجد میں جماعتِ ثانیہ عام معمول کی بات ہے، لہذا اگر کوئی حنفی شخص جماعتِ ثانیہ میں شریک ہو کر با جماعت نماز ادا کرلےتو اس کی گنجائش ہے، اور اس کی نماز درست ادا ہو جائےگی۔
اگر چہ حکم یہی ہے کہ جماعت کا امام کسی متبع سنت شخص کو بنایا جائے،تاہم اگر کسی نے باامر مجبوری کسی داڑھی منڈے شخص کی اقتداء میں نماز ادا کرلی تو اس کی نماز ہو جائے گی، اور تنہا نماز پڑھنے کی بجائے ایسے شخص کی اقتداء میں باجماعت پڑھنا بہتر ہے۔
جبکہ نابالغ بچے کی اقتداء میں بالغ کی نماز شرعاً درست نہیں،اس لئے اگر کسی جماعت کی امامت نابالغ بچہ کروارہا ہو تو اس کی اقتداء کرنے کے بجائے تنہا نماز پڑھنے کا اہتمام چاہیئے۔
2: فقہاء حنابلہ کے نزدیک چونکہ مسبوق اور متنفل کی اقتداء درست ہے، اور اس کے پیچھے فرض کی نیت کر کے کھڑا ہونے سے جماعت کی نماز کا ثواب حاصل ہو جاتا ہے، لہذااس صورت میں دوران نماز سائل کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، دونوں کی نماز درست ہو جائیگی، بشرطیکہ اقتداء کرنے والا فقہ حنبلی کا مقلد ہو۔
3:4 :ایسی صورت میں جماعت میں شرکت سے گریز کرنا چاہیئے، کیونکہ احناف کے نزدیک متنفل یا مسبوق کی اقتداء میں فرائض ادا نہ ہونگے۔
5: عند الاحناف ہر نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا لازم ہے،جمع بین الصلوٰۃ درست نہیں، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
7:6:اس صورت میں کوئی بھی نماز درست نہیں، سائل دونوں نمازیں اپنے اپنے اوقات میں پڑھنے کا اہتمام کرے۔
8: فقہاء احناف کے نزدیک نماز جنازہ کی شرائط میں سے ہے کہ میت جنازہ پڑھنے والے کے سامنے موجود ہو، اگر میت موجود نہ ہو تو نما ز جنازہ صحیح نہیں ہے، لہذا غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے سے احتراز لازم ہے۔
وفي الدر المختار :صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة الخ
و في الشاميةتحت :(قوله: نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لاينال كما ينال خلف تقي ورع ( باب الإمامۃ، ج 1، ص 562، ط ؛ سعید)۔
وفی الدر ایضاً: ويكره تكرار الجماعة بأذان و إقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له و لا مؤذن الخ
وفی الشامیۃ تحت : و لنا «أنه - عليه الصلاة و السلام - كان خرج ليصلح بين قوم فعاد إلى المسجد و قد صلى أهل المسجد فرجع إلى منزله فجمع أهله وصلى» و لو جاز ذلك لما اختار الصلاة في بيته على الجماعة في المسجد و لأن في الإطلاق هكذا تقليل الجماعة معنى ، فإنهم لا يجتمعون إذا علموا أنهم لا تفوتهم.( باب الإمامۃ، ج 1، ص 553، ط : سعید)۔
وفی الدر ایضاً: ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته الخ ( فصل فی البیع، ج 6، ص 407، ط : سعید)۔
وفیہ ایضاً: (ولا جمع بين فرضين في وقت بعذر) سفر ومطر خلافاً للشافعي، وما رواه محمول على الجمع فعلاً لا وقتاً (فإن جمع فسد لو قدم) الفرض على وقته (وحرم لو عكس) أي أخره عنه (وإن صح) بطريق القضاء (إلا لحاج بعرفة ومزدلفة) الخ ( کتابالصلاۃ، ج 1، ص 381، ط : سعید)۔
وفی رد المحتار: وظاھر الکلام شرح المنیۃ ایضا حیث قال وأما الاقتداء بالمخالف فی الفروع کالشافعی فیجوز مالم یعلم منہ ما یفسد الصلاۃ علی اعتقاد المقتدی علیہ الاجماع (الی قولہ )أی لا جدال بعد اتفاق عالمی المذھبین وھما رملی الحنفیۃ یعبی بہ نفسہ ورملی الشافعی رحمھا اللہ تعالی، فتحصل ان الاقتداء بالمخالف المراعی فی الفرائض افضل من الانفراد اذ لمیجد غیرہ، والا فالاقتداء بالموافق افضل الخ
وفیہ ایضاً : فلا تصح على غائب (إلی قولہ ) وصلاة النبي صلى الله عليه وسلم على النجاشي لغوية أو خصوصية. الخ ( کتاب الجنائز، ج 2، ص 209، ط : سعید)۔
وفی الھندیۃ : وامامۃ الصبی المراھق لصبیان مثلہ یجوز کذا فی الخلاصۃ وعلی قول بلخ یصح الاقتداء بالصبیان فی التراویح والسنن المطلقۃ کذا فی فتاوی قاضی خان والمختار انہ لا یجوز فی الصلوات کلھا کذا فی الھدایۃ وھو الاصح ھکذا فی المحیط الخ ( باب الامامۃ، ج1،ص85، ط: ماجدیۃ )۔
وفی الھدایۃ : ولا یصلی المفترض خلف المتنفل لان الاقتداء بناء ووصف الفرضیۃ معدوم فی حق الامام فلا یتحقق البناء علی المعدوم الخ(باب الامامۃ،ج1،ص127، ط: مجیدیۃ)۔