السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ آج کل بہت سے کورسز اور آنلائن زوم کلاسز ہوتی ہیں مختلف مضامین کی۔ اگر استاد مرد ہو اور طالب علم
1.خواتین ہوں ( پردہ اور بغیر پردہ دونوں)
یا
2. مخلوط ہوں۔
تو کیا شرعاً ایسی کلاسز لینے میں ممانعت ہے؟
(اس میں خاتون اور مرد کا کوئی اکیلے کوئی مذاکرہ نہیں ہے بلکہ ایک جماعت کی صورت میں ہیں).
براہِ کرم راہنمائی درکار ہے۔
آن لائن کورس اور زوم کلاسسز میں اگر سبق کے دوران خواتین نے اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ وغیرہ کے کیمرے بند رکھے ہوں ،اور ان کاچہرہ غیر مردوں کو دکھائی نہ دے رہا ہو،اسی طرح کلاس کے دوران یا اسکے بعد غیرمردوں سے غیر ضروری گفتگو اور بات چیت نہ ہو ،جو فتنے اور فساد کا باعث ہو ،تو ایسی صورت میں خواتین کیلئے (اپنے شوہریاوالد وغیرہ کی اجازت سے)کسی مرد استاد سے سبق پڑھنے یا ایسی آن لائن کلاس میں شمولیت اختیار کرنے کی کہ جس میں مرد حضرات بھی موجود ہوں گنجائش ہے۔
کمافی رد المحتار:(قولہ: زائدۃ)ببعدہ قولہ فی القنیۃ رامزا :ویجوز الکلام المباح مع امرءۃ اجنبیۃ وفی المجتبی رامزا: وفی الحدیث دلیل علی انہ لاباس ان یتکلم مع النساء بمالایحتاج الیہ ولیس ھٰذا من الخوض فی مالا یعنیہ انما ذالک فی کلام فیہ اثم فالظاھر انہ قول آخر او محمول علی العجوز ،تأ مل و تقدم فی شروط الصلاۃ ان صوت المرأۃ عورۃ علی راجح ومر الکلام فیہ فراجع اھ(ج۶ص۳۵۹)