مغرب کی فرض نماز میں تینوں رکعات میں فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا کیسا ہے؟
واضح ہو کہ چار رکعت والی فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں اور مغرب کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ پر ہی اکتفاء کرنا مسنون ہے،جبکہ فرض کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی اور سورت،تین چھوٹی آیاتیں ،یا کوئی ایک بڑی آیت ملانا واجب ہے،لہذا مغرب کی فرض نماز میں پہلی دو رکعتوں میں تو سورہ فاتحہ کے بعد کوئی اور سورت ملانا ضروری ہے، البتہ آخری رکعت میں فقط سورت فاتحہ پر اکتفاء کرنا چاہیئے،اسکے ساتھ کوئی اور سورت نہیں ملانی چاہیئے، البتہ اگر کسی نے تیسری رکعات میں بھی کوئی اور سورت ملائی ہے تو اس سے اس کی نماز پر کوئی اثر نہ ہوگا ،بلکہ نماز درست ادا ہوجائے گی ،تا ہم اس کی عادت بنالینا خلاف اولیٰ اور نامناسب ہے۔
کما فی الدر الختار: (واكتفى) المفترض (فيما بعد الأوليين بالفاتحة) فإنها سنة على الظاهر، ولو زاد لا بأس به (وهو مخير بين قراءة) الفاتحة وصحح العيني وجوبها (وتسبيح ثلاثا) وسكوت قدرها الخ(ج1 ص511)۔
وفی رد المحتار:تحت (قوله ولو زاد لا بأس) أي لو ضم إليها سورة لا بأس به لأن القراءة في الأخريين مشروعة من غير تقدير والاقتصار على الفاتحة مسنون لا واجب فكان الضم خلاف الأولى وذلك لا ينافي المشروعية، والإباحة بمعنى عدم الإثم في الفعل والترك كما قدمناه في أوائل بحث الواجبات الخ(ج1 ص511)۔