السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعہ نگرانی کرنا جائز ہے ؟ اور ڈیجیٹل کیمرے سے فوٹو کا کیا حکم ہے؟
حفاظت اور نگرانی و غیرہ جیسےجائز مقاصد کے لئے اسکول ، کالج اور مدارس میں عمومی مقامات پر سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے نصب کرنے کی گنجائش ہے ،
جبکہ جاندار کی جن تصاویر کو خارج میں دیکھنے کی اجازت ہو اگر ان کی تصاویر صرف اسکرین کی حد تک محدود ہوں ان کا باقاعدہ پرنٹ آؤٹ نہ لیا جائے تو ان تصاویر کا تصاویر محرمہ کے تحت داخل ہونے میں اہل ِعلم کا اختلاف ہے، اور ہماری تحقیق کے مطابق وہ تصاویر محرمہ میں داخل نہیں ، لہذا ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعہ ان جانداروں کی تصاویر لینا جن کا نفس الامر اور خارج میں دیکھنے کی اجازت ہو مباح ہے ، بشرطیکہ یہ تصاویر ڈیجیٹل ڈیوائس تک محدود رہیں اور کسی کاغذ وغیرہ پر اس کا پرنٹ آؤٹ نہ لیا جائے ، تاہم آج کل تصویر کشی اور ویڈیوز بنانا جس قدر عام ہو رہا ہے اس سے عوام الناس کے دل سے تصویر کی حرمت اور اس کی برائی نکلتی جا رہی ہے ،اس لئے اس سے بھی اجتناب کرنا بہرحال افضل اور بہتر ہے۔
كما في شرح السير الكبير لشمس الأئمة السرخسي : وإن تحققت الحاجة له إلى استعمال السلاح الذي فيه تمثال فلا بأس باستعماله ، لأن مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة كما في تناول الميتة (باب مايكره في دار الحرب وما لا يكره ، ج 1 ، ص ١٤63)-
و في تكملة فتح الملهم بشرح صحيح مسلم لشيخ الإسلام حفظه الله : أما الصورة التي ليس لها ثبات و استقرار، وليست منقوشة على شيء بصفة دائمة، فإنها بالظل أشبه منها بالصورة ويبدو أن صورة التلفزيون والفيديو لا تستقر على شيء في مرحلة من المراحل إلا إذا كان في صورة " فيلم " فإن كانت صورة الإنسان حية بحيث تبدو على الشاشة في نفس الوقت الذي يظهر فيه الإنسان أمام الكيمرا فإن الصورة لا تستقر على الكيمرا ولا على الشاشة، وإنما هي أجزاء كهربائية تنتقل من الكيمرا إلى الشابشة وتظهر عليها بترتيبها الأصلي ثم تفنى وتزول (إلى قوله) وعلى هذا ، فتنزيل هذه الصورة منزلة الصورة المستقرة مشكل الخ (باب تحريم تصوير صورة الحيوان الخ ج 4، ص 164، ط : مكتبة دار العلوم ،كراتشي)-
وفي شرح المجلة : الضرورات تبيح المحظورات (المادة ٢١ ، ج ا ص 55 ، ط: مكتبة إسلامية)-
و فيه أيضا : يتحمل الضرر الخاص لدفع الضرر العلم (الى قوله) الضرر أشد يزال بالأخف (المادة، ۲۷-۲6 ج ۱، ص 67-68ط : مكتبة إسلامية)-
و فی تکملۃ فتح الملھم : اما التلفزیون و الفدیو فلا شک فی حرمۃ استعمالھا بالنظر الی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ ( الی قولہ ) اما الصورۃ التی لیس لھا ثبات و استقرار و لیست منقوشۃ علی شیئ بصفۃ دائمۃ فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ و یبدوا ان صورۃ التلفزیون و الفدیوا لا تستقر علی شیئ فی مرحلۃ من المراحل اھ ( ج 4 ، ص 164 ، ط : دار العلوم کراتشی )۔