کیا خانہ کعبہ کے چھت پر نماز جائز ہے؟ جبکہ حدیث میں اس کی ممانعت ہے، مگر دیوبند علماء اسے جائز کہتے ہیں۔
واضح ہو کہ کعبہ یعنی جس رُخ پر دوران نماز منہ کرنا ضروری ہے,اس سے مراد بیت اللہ شریف کی عمارت اور اس سے لیکر آسمان تک یہ پورا احاطہ ہے, صرف عمارت مراد نہیں، لہٰذا کسی نے اگر کعبہ کی چھت پر نماز پڑھی, تو شرعاً وہ درست ہی کہلائےگی, اگرچہ تعظیم کی وجہ سے اس کی چھت پر نماز پڑھنا مکروہ ہے, جس سے احتراز چاہیئے، جبکہ حدیث مبارکہ میں بھی عظمت بیت اللہ کی بناء پر اس سے منع کیا گیا ہے۔
ففی سنن الترمذي: عن نافع، عن ابن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يصلى في سبعة مواطن: في المزبلة، والمجزرة، والمقبرة، وقارعة الطريق، وفي الحمام، وفي معاطن الإبل، وفوق ظهر بيت الله الخ(1/ 451)
وفی الدر المختار: (يصح فرض ونفل فيها وفوقها) ولو بلا سترة لأن القبلة عندنا هي العرصة والهواء إلى عنان السماء (وإن كره الثاني) للنهي، وترك التعظيم الخ (2/ 254)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: وإن كره الثاني) أي الصلاة فوقها (قوله للنهي) «لأنها من التسع التي نهى عنها رسول الله - صلى الله عليه وسلم -» الخ (2/ 254) واللہ اعلم