احکام نماز

گاڑی کی سیٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
74503
| تاریخ :
2024-07-12
عبادات / نماز / احکام نماز

گاڑی کی سیٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھنا

کیا میں گاڑی کی سیٹ پر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھ سکتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قیام نماز کا ایک رکن ہے ، جس کو بغیر کسی معتبر عذر کے ترک نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ مسافر کے لئےاولاً ایسی گاڑی کا انتخاب کرنا چاہیئے جو نماز کے وقت رکتی ہو، تاکہ مکمل تسلی کے ساتھ نماز کے جملہ ارکان کی ادائیگی کے ساتھ نماز ادا ہو، تاہم اگر کبھی کسی جگہ سفر کے دوران گاڑی نماز کے لئے نہ رکے اور نماز کے قضاء ہونے کا اندیشہ ہو اور گاڑی میں قبلہ رخ ہوکر قیام کے ساتھ نماز ادا نہ کی جاسکتی ہو تو ایسی صورت میں گاڑی کی سیٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھ لے تاکہ "تشبہ بالمصلین" ہوجائے، تاہم بعد میں اس نماز کو لوٹانا ضروری ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: واحترز بالنفل عن الفرض والواجب بأنواعه كالوتر والمنذور وما لزم بالشروع والإفساد وصلاة الجنازة وسجدة تليت على الأرض فلا يجوز على الدابة بلا عذر لعدم الحرج كما في البحراھ۔(ج۲، ص۳۸)۔
وفیہ ایضاً: والحاصل أن كلا من اتحاد المكان واستقبال القبلة شرط في صلاة غير النافلة عند الإمكان لا يسقط إلا بعذر، فلو أمكنه إيقافها مستقبلا فعل الخ (ج۲، ص۴۲)۔
و فی الھندیۃ: ثم كل من كان يمكنه أن ينزل فصلى راكبا تفسد صلاته عندنا، كذا في المضمرات.اھ (ج۱، ص۱۵۶)۔
"و فی البحر الرائق: وفي الخلاصة: وفتاوی قاضیخان وغیرهما: الأیسر في ید العدو إذا منعه الکافر عن الوضوء والصلاة یتیمم ویصلي بالإیماء، ثم یعید إذا خرج (الی قولہ) فعلم منه أن العذر إن کان من قبل الله تعالیٰ لا تجب الإعادة، وإن کان من قبل العبد وجبت الإعادة"(ج۱، ص۱۴۲)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74503کی تصدیق کریں
0     1678
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات