ہمارے خاندان کی ایسوسی ایشن خاندان کے مخیر لوگوں سے زکوۃ جمع کرکے خاندان ہی کے مستحق لوگوں میں اس زکوۃ کی تقسیم کا کام بلاوجہ کرتی ہے،اس سلسلہ میں کچھ سوالات کے جوابات کی وضاحت قرآن وسنت کی روشنی میں فرمادیں
1: کیا ایسوسی ایشن جمع شدہ زکوۃ کی رقم کسی ادارے میں منافع کی غرض سے رکھ سکتی ہے،جبکہ زکوۃ دینے والے لوگوں کو اس کا علم بھی نہ ہو کہ ان کی دی ہوئی زکوۃ کسی ادارے میں منافع کی غرض سے رکھی ہوئی ہے اور ایسا کرنا جائز ہے؟
2: کیا زکوۃ کی رقم پر حاصل شدہ منافع ایسوسی ایشن اپنے کسی مصرف میں استعمال کرسکتی ہے یا یہ منافع اگر جائز ہے تو یہ بھی زکوۃ کی شکل میں آگے دینا ہوگا؟
3: زکوۃ وصول کرنے والا خاندان اگر لکھ کر دے تو کیا زکوۃ کی رقم اس کے بچوں کی پڑھائی کی غرض سے دی جاسکتی ہے،بےشک وہ خاندان زکوۃ کا مستحق ہی نہ ہو،اگر کوئی غلط بیانی سے زکوۃ کا مستحق بتاکر زکوۃ وصول کرلےاور بعد میں کسی وقت معلوم ہو کہ وہ زکوۃ کے مستحق نہیں ہیں،تو ایسی صورت میں ہمیں کاروائی کا کیا اختیار ہے؟
4: کیا ایسوسی ایشن زکوۃ کی رقم کو اسکا لر شپ کے طور پر تقسیم کرسکتی ہے؟
5: زکوۃ کی مد میں کسی شخص کو زیادہ سے زیادہ کتنی رقم دی جاسکتی ہےاور کتنے عرصے تک؟
6: کیا زکوۃ کی رقم کسی کو قرضہ کے طور پر دی جاسکتی ہے؟
7: اور اگر قرضہ لینے والا وہ واپس کرتا ہے تو اس کی مدت کیا ہوگی؟ اور وہ رقم زکوۃ ہی میں جائے گی یا جنرل فنڈ میں استعمال کی جاسکتی ہے؟
واضح ہوکہ اصل مالکان کی اجازت کے بغیر زکوۃ کی رقم منافع کی غرض سے کسی ادارے میں جمع کرانا یا بطورِ قرض دینا اور اس کی ادائیگی میں تاخیر اور ٹال مٹول سے کام لینا شرعاً جائز نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
اس تمہید کے بعد سوالات کے جوابات ملاحظہ ہوں:
(7.6.2.1) مذکور ایسوسی ایشن کو لوگوں سے جمع کردہ رقم ان کی اجازت کے بغیر کسی ادارہ میں جمع کرانا یا غیر مستحق افراد کو بطورِ قرض دینا شرعاً جائز نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے،بلکہ مذکور رقم جلد از جلد مستحق افراد تک پہنچانے کی فکر کریں،تاکہ مستحقین تک جلد از جلد ان کا حق پہنچ جائےاور اصل مالکان کی زکوۃ بھی بروقت ادا ہوسکے ۔
(5.4) جی ہاں! زکوۃ کی رقم مستحق افراد کو بطورِ سکالر شپ کے دی جاسکتی ہے،البتہ اتنی بات ذہن نشین رہنی چاہیئے کہ بلا عذر مستحق زکوۃ کو اتنی رقم دیدینا کہ جس سے خود اس پر زکوۃ لازم ہوجائے , مکروہ ہے، جس سے اجتناب کیا جائے،البتہ کوئی مجبوری اور عذر ہو تو بلاکراہت جائز ہے۔
(3) زکوۃ کی رقم دینے سے پہلے مذکور ادارہ کے افراد پر لازم ہے کہ مکمل تحقیق اور جانچ پڑتال کرنے کے بعد جب یقین یا غالب گمان حاصل کریں تو مستحق افراد کو رقم دیں،تاہم اگر مکمل تحقیق وغیرہ کرکے زکوۃ کی رقم ادا کی تو اصل مالکان کی زکوۃ ادا ہوجائیگی ،اگرچہ بعد میں کسی موقع پر اس شخص کے غیر مستحق ہونے کا علم ہوجائے۔
کما فی الفتاوی التاتارخانیۃ: اذا دفع الرجلان الی رجل کل واحد منھما دراھم لیتصدق بھا عن زکاۃ مالہ فخلط الدراھم قبل الدفع ثم دفع فھو ضامن وفی الحجۃ: الا اذا جدد الاذن أو أجاز المالکان فحینئذ یجوز الخ (ج2 ص286 کتاب الزکاۃ الفصل التاسع فی المسائل المتعلقۃ بمعطی الزکاۃ ط: ادارۃ القرآن کراتشی)۔
وفی یسئلونک عن الزکاۃ: وقال الإمام النووي: [قد ذكرنا أن مذهبنا أنها إذا وجبت الزكاة وتمكن من إخراجها، وجب الإخراج على الفور، فإن أخرها أثم، وبه قال مالك وأحمد وجمهور العلماء] المجموع 5/ 335.
واستثمار أموال الزكاة فيما أرى أنه يتعارض مع الفورية في إيصال الزكاة إلى مستحقيها، ممن ذكرهم الله سبحانه وتعالى في آية مصارف الزكاة، لأن استثمار أموال الزكاة في المشاريع المختلفة يؤدي إلى انتظار أرباحها، وبالتالي يؤدي إلى تأخير توزيعها الخ(ص142 حکم استثمار اموال الزکوۃ ط: لجنۃ زکوۃ القدسی،فلسطین)۔
وفیھا أیضاً: إذا تقرر هذا فإني أرى أنه لا يجوز تحويل أموال الزكاة إلى قروض حسنة تسترجع من الطلبة مستقبلاً لأن هذا يعني أن الزكاة لم توضع في مصارفها الشرعية فهذه الأموال المقرضة ستستمر في الدوران بين الطلبة وبين الصندوق كلما أخذها طالب ردها إلى الصندوق ليأخذها آخر وهكذا وبالتالي لا تكون الزكاة قد وقعت في أيدي مستحقيها ومن المعلوم أن المكلف بإخراج الزكاة أما أن يدفع مال الزكاة للمستحقين وأما أن يدفعه للإمام الذي يتولى إيصاله لمستحقيه أو من يقوم مقامه ولا تبرأ الذمة إلا بأحد الأمرين. انظر مجلة المجمع الفقهي عدد3، ج1، ص416. فإذا بقيت الزكاة تدور بين الصندوق وبين الطلبة فإنها لن تصل إلى مستحقيها ويبقى المال في هذا الصندوق الذي لا مالك له حقيقة الخ (ص157)۔
وفی نوازل الزكاة: اتفق الفقهاء على مشروعية التوكيل في إخراج الزكاة،فيأخذ الوكيل حكم الأصيل، وهو مالك المال فيما يتعلق به من أحكام، ومن ذلك حكم استثمار مال الزكاة، وقد ترجح في المسألة السابقة عدم جواز ذلك في حق مالك المال، فلا يجوز أيضا في حق الوكيل أن يستثمر مال الزكاة بعد تعلق حق المستحقين به، ومما تجدر الإشارة إليه أن الوكيل قد يكون شخصًا حقيقيّا، وقد يكون شخصًا حُكْميًّا يتمثل في جهة، كالمؤسسات والمكاتب الخيرية التي لم تُكَلّف من الإمام بجمع الزكاة وتفريقها، فتكون وكيلة عن المالك فقط، فينطبق عليها حكم المالك في استثمار أموال الزكاة كما تقدم تقريره الخ (ص479 حکم استثمار اموال الزکوۃ ط: دار المیمان،القاھرۃ)۔
وفیھا أیضاً: ثالثًا: أن هذه الأموال الزكوية المستثمرة لها مصارف معينة، ولو أوجبنا الزكاة فيها، فإن مصارف هذه الزكاة الواجبة هي بعينها مصارف الأموال المستثمرة، فلا فائدة من اقتطاع شيء من هذه الأموال باسم الزكاة؛ لأن مصارفهما واحدة اھ( ص510 المبحث الثالث زکوۃ مال المستثمر ط: دار المیمان،القاھرۃ)۔
کمافی الدر المختار: وشرعا (تمليك)خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه (عينه الشارع) وهو ربع عشر نصاب حولي خرج النافلة والفطرة (من مسلم فقير) ولو معتوها (غير هاشمي ولا مولاه) أي معتقه، وهذا معنى قول الكنز تمليك المال: أي المعهود إخراجه شرعا (مع قطع المنفعة عن المملك من كل وجه) فلا يدفع لأصله وفرعه (لله تعالى) بيان لاشتراط النية اھ(ج2 ص256 کتاب الزکوۃ ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (وافتراضها عمري) أي على التراخي وصححه الباقاني وغيره (وقيل فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانية(فيأثم بتأخيرها) بلا عذر (وترد شهادته) لأن الأمر بالصرف إلى الفقير معه قرينة الفور وهي أنه لدفع حاجته وهي معجلة، فمتى لم تجب على الفور لم يحصل المقصود من الإيجاب على وجه التمام، وتمامه في الفتح الخ (ج2 ص271 کتاب الزکوۃ ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (وكره إعطاء فقير نصابا) أو أكثر (إلا إذا كان) المدفوع إليه (مديونا أو) كان (صاحب عيال) بحيث (لو فرقه عليهم لا يخص كلا) أو لا يفضل بعد دينه (نصاب) فلا يكره فتح.
وفی رد المحتار تحت (قوله: ولو دفع بلا تحر) أي ولا شك كما في الفتح. وفي القهستاني بأن لم يخطر بباله أنه مصرف أو لا، وقوله لم يجز إن أخطأ أي إن تبين له أنه غير مصرف فلو لم يظهر له شيء فهو على الجواز وقدمنا ما لو شك فلم يتحر أو تحرى وغلب على ظنه أنه غير مصرف الخ (ج2 ص353 کتاب الزکوۃ ط: سعید)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0