احکام نماز

مسبوق مقتدی کا امام کے ساتھ سلام پھیرنے سے سجدۂ سہو کا حکم

فتوی نمبر :
74372
| تاریخ :
2024-07-06
عبادات / نماز / احکام نماز

مسبوق مقتدی کا امام کے ساتھ سلام پھیرنے سے سجدۂ سہو کا حکم

اگرمسبوق مقتدی نے بھول کر امام کے ساتھ ایک سلام پھیر لیا ، تو کیا مقتدی پر سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسبوق اگر بھول کر امام سے پہلے یا امام کے ساتھ متصل سلام پھیردے ، اس طور پر کہ اس کے " سلام" کے الفاظ امام کے بالکل ساتھ ساتھ ادا ہوں اور الفاظ کی ادائیگی میں امام کے مقابلے میں ذرا سی بھی تاخیر نہ ہوئی ہو ، تو ایسی صورت میں اس پر سجدۂ سہو واجب نہ ہوگا ، لیکن اگر مسبوق نے امام کے سلام پھیرنے کے بعد سلام پھیرا ہو ، اس طور پر کہ اس کے "سلام" کے الفاظ امام کے سلام کے بعد ادا ہوئے ہوں ( جیسا کہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے) تو اس صورت میں اس کے ذمہ بقیہ نماز پوری کرنے کے بعد آخر میں سجدۂ سہو کرنا لازم ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار : ‌ولو ‌سلم ‌ساهيا ‌إن ‌بعد ‌إمامه ‌لزمه ‌السهو ‌وإلا ‌لا الخ ( باب الإمامة، ج 1، ص 599 ، ط : سعيد)-
وفي رد المحتار : تحت (قوله وإلا لا) أي وإن سلم معه أو قبله لا يلزمه لأنه مقتد في هاتين الحالتين. وفي شرح المنية عن المحيط إن سلم في الأولى مقارنا لسلامه فلا سهو عليه لأنه مقتد به، وبعده يلزم لأنه منفرد اهـ ( باب الإمامة، ج 1، ص 599 ، ط : سعيد)-
وفيه أيضا : (قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) فإن ‌سلم ‌فإن ‌كان ‌عامدا ‌فسدت ‌وإلا ‌لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونه منفردا حينئذ بحر، وأراد بالمعية المقارنة وهو نادر الوقوع كما في شرح المنية. ( ‌‌باب سجود السهو، ج 2، ص 82-83)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74372کی تصدیق کریں
0     1251
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات