السلام علیکم!
میری زوجہ روزانہ نماز نہیں پڑھتی اور میں جب بہت زور دیتا ہوں تو وہ پڑھ لیتی ہیں، پر خود سے نہیں پڑھتی اور کچھ دن کی نمازیں چھوڑ دیتی ہے، جب تک میں ان کو نہ بولوں، اس معاملہ میں کیا کرنا چاہیئے ؟ میرے بار بار بولنے کے بعد بھی ان کو نماز کی عادت نہیں ہورہی اور وہ اسی طرح نماز چھوڑتی رہی تو کیا کرنا چاہیئے ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کو چاہیئے کہ حکمت و بصیرت کے ساتھ اُسے وقتاً فوقتاً نماز کی ادائیگی کی تلقین کرتا رہے اور اس میں بالکل غفلت نہ برتے اور اسی طرح سائل خود بھی سنن و نوافل گھر میں ادا کرنے کا اہتمام کرے، تاکہ گھر میں عبادت کا ماحول قائم ہوسکے اور اس کے ساتھ دینی ماحول میں جوڑنے کا اہتمام بھی کرے، اگر محلے میں دعوت و تبلیغ کا کام ہوتا ہو اور خواتین کے لئے بھی بیان ہوتا ہو، تو گھر والوں کو وہاں بھیج دے یا کسی مصلح ، متبع سنت اللہ والے کی مجلس میں بھیجیں اور پھر ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے ہدایت کی دعا بھی کرتا رہے، امید ہے کہ ان شاء اللہ ان تدابیر سے اللہ تعالیٰ اُسے نماز کی ادائیگی کی توفیق عطاء فرمائیں گے۔
قال اللہ تعالیٰ: ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ اھ(الایۃ:125)
وفی البحر الرائق: کما أنه یجوز ضربها لترک الإجابة إذا کانت طاهرة عن الحیض وعن النفاس.الخ (فصل في التعزیر ج 5 ص 53 ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفی رد المحتار تحت: (قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره الخ ( کتاب الحظر والاباحۃ ج 6 ص 427 ط: سعید)۔