احکام نماز

مسبوق اپنی بقیہ رکعات کیسے پوری کرے؟

فتوی نمبر :
74234
| تاریخ :
2024-07-01
عبادات / نماز / احکام نماز

مسبوق اپنی بقیہ رکعات کیسے پوری کرے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مغرب یا عشاء کی نماز میں دو یا تین رکعتیں چھوٹ جائے اسے کیسے ادا کرے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسبوق (جس سے جماعت کی نماز میں ایک یا زائد رکعتیں چھوٹ جائیں ) امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو کر ثناء، تعوذ اور تسمیہ کے ساتھ سورۂِ فاتحہ اور سورت پڑھ کر یہ رکعت مکمل کرے گا ، اب اگر مجموعی رکعت کی تعداد کے اعتبار سے اس رکعت کے اختتام پر تشھد میں بیٹھنے کی ضرورت ہو تو، تشھد میں بیٹھ کر ورنہ کھڑے ہو کر انفرادی نماز کی طرح بقیہ رکعت بھی مکمل کرلے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: المسبوق من لم يدرك الركعة الأولى مع الإمام (إلی قولہ) (ومنها) أنه يصلي أولا ما أدرك مع الإمام ثم يقضي ما سبق (إلی قولہ) (ومنها) أنه يقضي أول صلاته في حق القراءة وآخرها في حق التشهد حتى لو أدرك ركعة من المغرب قضى ركعتين وفصل بقعدة فيكون بثلاث قعدات وقرأ في كل فاتحة وسورة ولو ترك القراءة في إحداهما تفسد.ولو أدرك ركعة من الرباعية فعليه أن يقضي ركعة يقرأ فيها الفاتحة والسورة ويتشهد ويقضي ركعة أخرى كذلك ولا يتشهد وفي الثالثة بالخيار والقراءة أفضل. هكذا في الخلاصة الخ (کتاب الصلاۃ الفصل السابع فی المسبوق ج 1 صـ 90-91 ط: ماجدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74234کی تصدیق کریں
0     948
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات