مباحات

عملیات میں تصویر دیکھ کر علاج کرنا

فتوی نمبر :
73458
| تاریخ :
2024-05-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

عملیات میں تصویر دیکھ کر علاج کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عاملوں(راقی) کا کسی کی تصویر (فوٹو) دیکھ کر(جنات کی مدد سے ) اس کے مرض کی تشخیص کرنا، اور اسی پر(یعنی جنات کی خبر پر ) اعتماد کرکے لوگوں کو نتیجہ سنانا(یعنی آپ کو سیحر ہوا ، یا اپ کی آندھر جین ہے و غیرہ و غیرہ ) شریعت مطہرہ کے نزدیک کیسا ہے؟براہ مہربانی مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ عاملوں (راقیوں) کا کسی شخص کی تصویر (فوٹو) دیکھ کر جنّات کی مدد سے مرض کی تشخیص کرنا اور پھر جنّات کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے یہ کہنا کہ اس پر سحر ہے یا اس میں جن داخل ہے،شرعاً درست نہیں۔
شریعتِ مطہرہ میں غیب کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، اور جنّات بھی غیب دان نہیں؛ وہ زیادہ سے زیادہ ظنّ، قیاس یا جھوٹ پر مبنی باتیں بتاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے کاہنوں، عرّافوں اور غیب بتانے والوں کے پاس جانے اور ان کی باتوں کی تصدیق سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ جنّات سے معلومات لے کر لوگوں کے احوال بیان کرنا کہانت اور عرّافی کے مشابہ ہے، جو شرعاً ناجائز اور گمراہی کے زمرے میں داخل ہے۔
اسی طرح صرف تصویر دیکھ کر کسی کے مرض، سحر یا جنّی اثر کا دعویٰ کرنا نہ تو شرعی دلیل رکھتا ہے اور نہ ہی قابلِ اعتماد سبب ہے۔ اس پر اعتماد کرنا لوگوں کو وسوسوں، خوف اور باطل عقائد میں مبتلا کرتا ہے، جس سے بچنے کی قرآن وسنت میں تاکیدآئی ہے۔
البتہ اعتقادصحیح کے ساتھ شرعی رقیہ یعنی قرآنِ کریم کی آیات، مسنون اذکار اور ثابت دعاؤں کے ذریعے علاج جائز ہے، مگر اس میں بھی جنّات سے مدد لینا، ان کی خبروں پر فیصلے سنانا یا غیب دانی کا دعویٰ کرنا جائز نہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور طریقۂ تشخیص شرعاً درست نہیں ہے، اور مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے عاملوں سے اجتناب کریں اوربیماری میں طبی اسباب اور شرعی رقیہ پر اکتفا کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تعالیٰ: وَأَنَّهُ كَانَ رِجَال مِّنَ الۡإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٖ مِّنَ الۡجِنِّ فَزَادُوهُمۡ رَهَقٗا،(سورۃ الجن،الآیۃ:6)-
وفی آکام المرجان: قال أبو العباس أحمد بن تيميةؒ أما سؤال الجن وسؤال من يسألهم فهذا إن كان على وجه التصديق لهم في كل ما يخبرون به والتعظيم للسؤال فهو حرام، كما ثبت في الصحيح عن معاوية بن الحكمؓ أن النبي صلى الله عليه وسلم قيل له إن قوما منا يأتون الكهان قال فلا تأتوهم، وفي صحيح مسلم عنه عليه الصلاة والسلام انه قال من أتى عرافا فسأله عن شيء لم تقبل له صلاة أربعين يوما، وأما إن كان يسأل المسئول ليمتحن حاله ويختبر باطن أمره وعنده ما يميز به صدقه من كذبه فهذا جائز، كما ثبت في الصحيحين أن النبي صلى الله عليه وسلم سأل ابن صياد فقال ما يأتيك؟ قال يأتيني صادق وكاذب، قال ما ترى؟ قال ارى عرشا على الماء، قال فإني قد خبأت لك خبيئا قال هو الدخ قال اخسأ فلن تعدو قدرك فإنما أنت من إخوان الكهان وكذلك إذا كان يسمع ما يقولون ويخبرون به عن الجن كما يسمع المسلمون ما يقوله الكفار والفجار ليعرفوا ما عندهم فكما يسمع خبر الفاسق ويتبين ويتثبت فلا يجزم بصدقه ولا بكذبه إلا ببينة، كما قال الله تعالى "إن جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا"الخ (ص193،ط: مکتبۃ القرآن،مصر)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73458کی تصدیق کریں
0     126
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات