بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم جناب مفتی صاحب دام مجدکم! السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی و برکاتہ!
ایک اہم مسئلہ کی بابت آپ کی علمی رائےمطلوب ہے۔
میرا تعلق الحمدللہ وفاق المدارس العربیہ سے منسلک ایک دینی مدرسہ سے ہے، مدرسہ کراچی کے ایک پوش علاقہ میں قائم ہے، اور الحمدللہ تشنگانِ علوم نبویہ کی پیاس بجھانے اور ان کی حتی المقدور دینی و اخلاقی تربیت کی کوششوں میں مصروف ہے۔
گزشتہ کچھ سالوں سے ایک رائے بہت شدت سے یہاں دی جارہی ہے جس پر عمل بھی ہوا ہی چاہتا تھا کہ بعض اساتذہ کرام کی شدت سے درخواست پر فی الحال اس کو موقوف کردیا گیا ہے۔
اب تک مدرسہ میں دیگر مدارس کی طرح ہفتہ وارتعطیل جمعہ کے روز ہی ہوتی ہے، لیکن اب اتوار کو قومی تعطیل ہونے کی بنیاد پر تعطیل کی تجویز ہے، جبکہ شعبہ حفظ و ناظرہ میں اس پر ایک طویل عرصہ قبل عمل بھی ہوچکا ہے، جس پر ان کے والدین میں سے اکثر مطمئن اور خوش بھی ہیں۔
اس وقت مسئلہ شعبہ کتب کا ہے کہ اس میں اگر اتوار کی چھٹی کی جاتی ہے تو یہ عمومی توارث اور تعامل مدارس کے خلاف ہے۔
اس سلسلہ میں جواز و عدم جواز سے آگے بھی راہ نمائی درکار ہے کہ آیا مدرسہ کی عمومی تعطیل جمعہ کو ختم کرکے اتوار کو جاری کرنا شرعاً کس درجہ میں ہے؟ اور کیا اہل مدارس کو یا کسی ایک مدرسہ کو ایسا کرنا چاہیے؟
اس بابت ترجیح الراجح مع وجوہاتِ ترجیح کی طرف راہ نمائی بھی فرمادیں گے تو عنایت ہوگی۔ فاجرکم علی اللہ!
جواب سے قبل بطورِ تمہید یہ واضح ہو کہ جمعہ کا دن ایک بابرکت دن ہے،جسے اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں کےلیےبطورِ خاص اپنی عبادت کےلیے منتخب فرمایا ہے،اور اس دن کے بہت سے فضائل اور اعمال احادیث میں وارد ہوئےہیں،جن کا مقتضیٰ یہ ہے کہ انسان کم از کم اس دن اپنی روز مرّہ کی مصروفیات کوکم کرکے اللہ کی طرف رجوع کرے اور زیادہ سے زیادہ وقت عبادات اورتسبیح وتلاوت وغیرہ میں صرف کرسکے۔
اس کے بعد سائل کے سوال کا جواب عرض ہے کہ مدارس میں کسی عذر کی بناء پر مخصوص حالات وواقعات کے پیشِ نظر جمعہ کے بجائے اتوار کے دن چھٹی کرنے کی اگرچہ گنجا ئش معلوم ہوتی ہے،لیکن مدارسِ دینیہ میں بھی اگراتوار کے دن چھٹی کردی جائے تو اس سے یہ دن بھی کام کے دیگر ایّام کی طرح عام دن تصوّر ہوگا،جس کی وجہ سےایک تو جمعہ کے اعمال اور اس کی تیاری میں خلل واقع ہوگا،اور دوسرا یہ کہ اس سے رفتہ رفتہ جمعہ کی اہمیت لوگوں کے دلوں سے جاتی رہے گی،نیز اتوار کے دن تعطیل کرنے میں غیروں کے تمدّن اور طور طریقوں کی مشابہت کا پہلو بھی موجود ہے،لہذا بہتر یہی ہے کہ دیگر مدارس کی طرح مذکور مدرسے میں بھی جمعہ کے دن ہی تعطیل کو برقرار رکھا جائے،تاکہ دیگر خرابیوں کے ساتھ ساتھ مدارس کی اجتماعیت اور اس کا تشخص متاثر نہ ہو۔
چنانچہ اس بابت مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ "فتاویٰ محمودیہ" جلد نمبر8 صفحہ نمبر 363 پر لکھتے ہیں:
"اتوار کے دن تعطیل کرنے میں تشبہ ہے غیروں کے ساتھ، دینی مدرسہ میں اس کو ہرگز اختیار نہ کیا جائے"۔
اسی طرح جلد نمبر15 صفحہ نمبر 643 پررقمطراز ہیں:
"عامۃً اسلامی اداروں میں جمعہ کے روز تعطیل ہوتی ہے،اتوار کی تعطیل سے اسی لیے منع کیا جاتا ہے کہ اس روز غیرمسلم تعطیل کرتے ہیں"۔
نیز حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ "امداد الفتاویٰ" جلد نمبر4صفحہ نمبر 266 پرارشاد فرماتےہیں:
"سوال: ہمارے یہاں سب مدارس میں جمعہ کو تعطیل ہوتی ہے، اتوار کو تعطیل کرنا روا ہوگا یا نہیں؟
جواب: نہیں، بسبب تشبہ وتعظیم یومِ نصاریٰ کے"۔
لما فی التنزیل العزیز[الجمعة: 9]
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} .
وفی صحيح البخاري (2/ 2)
876 - حدثنا أبو اليمان، قال: أخبرنا شعيب، قال: حدثنا أبو الزناد، أن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، مولى ربيعة بن الحارث، حدثه: أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «نحن الآخرون السابقون يوم القيامة، بيد أنهم أوتوا الكتاب من قبلنا، ثم هذا يومهم الذي فرض عليهم، فاختلفوا فيه، فهدانا الله، فالناس لنا فيه تبع اليهود غدا، والنصارى بعد غد» .