احکام نماز

مروجہ قضائے عمری کاحکم

فتوی نمبر :
7303
| تاریخ :
2009-09-13
عبادات / نماز / احکام نماز

مروجہ قضائے عمری کاحکم

لوگوں کے درمیان مشہور ہے ، اس بات کو کہا جاتا ہے کہ، ایک حدیث ہے آپ برائے مہربانی اس کی تصدیق فرمائیں!
ارشاد نبویﷺ ہے ’’جس شخص کی نماز قضاء ہوئی ہوں اور تعداد نہ معلوم ہو ، تو وہ رمضان کے آخری جمعہ کے دن ۴ رکعت نماز نفل ایک سلام سے پڑھے ، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی ۷ سات بار سورۃ الکوثر ۱۵ پندرہ بار ، اگر سات سو سال کی نمازیں بھی قضاء ہوئی ہونگی تو اس کا کفارہ ہو جائے گا‘‘برائے مہربانی اس بارے میں راہ نمائی فرما دیں کہ ، اگر یہ کنفرم ہو تو حدیث کی کتاب اور صفحہ نمبر بھی بتا دیں ، اور اگر یہ اہلِ تشیع کا عقیدہ ہے تو بھی بتا دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حدیث انھیں الفاظ کے ساتھ مذکور ہے، مگر محدثین حضرات نے اُسے موضوع اور بے اصل کا درجہ دیکر غیر معتمد قرار دیا ہے، تفصیل اس کی ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ کی کتاب ’’الموضوعات الکبریٰ، ٣٥٦/١) اور علامہ شوکانی رحمہ اللہ علیہ کی کتاب ’’الفوائد المجموعۃ للشوکانی‘‘ کی جلد اول صفحہ ۵۴ پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ ذیل میں بھی ان کتب کی عبارات ترجمہ کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہے۔
ترجمہ : حدیث ’’جس شخص نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ میں ایک فرض نماز کی قضاء پڑھی، تو یہ اس کی ستر سال کی قضاء نمازوں کے لیے کافی ہو جائےگی ،قطعی طور پر باطل ہے، اس لیے کہ یہ اجماع کے خلاف ہے بایں طور کہ عبادات میں سے کوئی چیز بھی کئی سالوں کی فوت شدہ نمازوں کے قائم مقام نہیں ہو سکتی۔ (الموضوعات الکبریٰ)
ترجمہ: (موضوع حدیث کی پانچویں قسم) یہ ہے کہ وہ مقتضاء عقل وشرح کے خلاف ہو ، اور قواعدِ شرعیہ اس کی تکذیب کریں جیسے قضاء عمری (عجالۂ نافعہ)
ترجمہ: حدیث ’’جس شخص نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ میں دن اور رات کی پانچ نمازیں پڑھ لیں ، تو اس کے ایک سال کی قضاء نمازیں معاف ہو جائیں گی‘‘ یہ موضوع ہے، جس (کے موضوع، من گھڑت ہونے) میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
لہٰذا اس تفصیل اور قاعدہ شرعیہ کے عموم کے پیش نظر ایسی موضوع اور من گھڑت احادیث پر عمل کرنے کی بجائے ، ان نمازوں کی قضاء پڑھنے کی فکر لازم ہے، اور اسی کا اہتمام بھی چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الموضوعات الکبری: ’’من قضی صلاة من الفرائض فی آخر جمعة من شھر رمضان کان ذلك جابراً لکل صلاۃ فائتة فی عمرہ الی سبعین سنة" باطل قطعا، لانه مناقض للاجماع علی ان شیئا من العبادات لا یقوم مقام فائتة سنوات اھ ( ۳۵۶)
وفی عجالة النافعة: پنجم آنکه مخالفت مقتضیٰ عقل وشرع باشد وقواعد شرعیه آن راتکذیب نمایند، مثل قضاء عمری اھ ( ۲۴)
وفی الفوائد المجموعة: "من صلى في آخر جمعة من رمضان الخمس الصلوات المفروضة في اليوم والليلة قضت عنه ما أخل به من صلاة سنته.
هذا: موضوع لا إشكال فيه ولم أجده في شيء من الكتب التي جمع مصنفوها فيها الأحاديث الموضوعة اھ (54)
ففی صحيح ابن حبان: عن أنس بن مالك، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من نسي صلاة، فليصلها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك» اھ (6/ 373)
وفی الفتاوى الهندية: كل صلاة فاتت عن الوقت بعد وجوبها فيه يلزمه قضاؤها سواء ترك عمدا أو سهوا أو بسبب نوم وسواء كانت الفوائت كثيرة أو قليلة اھ (1/ 121) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حنیف شریف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 7303کی تصدیق کریں
0     696
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات