مباحات

اسرائیلی فرنچائز کیلئے دکان تعمیر کرنا

فتوی نمبر :
72698
| تاریخ :
2024-04-25
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اسرائیلی فرنچائز کیلئے دکان تعمیر کرنا

Tim Hortons نامی ایک برانڈ ہے ، جس کے کھانے کا لوگ بائیکاٹ کرتے ہیں اسرائیل کی وجہ سے،اس سے ایک سرکاری ادارہ فرنچائز لے رہا ہے،کیا میں ان کے لئےدکان بنا سکتا ہوں؟ میں ایک ٹھیکیدار ہوں ،پیسہ سارا کا سارا پاکستانی کمپنی دےگی،” “Tim Hortons or Burger King ایک ہی مالک کے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کا سرکاری ادارہ کے لئے دکان بنانا بلاشبہ جائز اور درست ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ مذکور کمپنی کو چاہئیے کہ اسرائیلی کمپنی کی فرنچائز لینے کے بجائے کسی اور کمپنی کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرے، تاکہ فلسطین کے مظلوم بھائیوں کے خلاف مسلمان کا پیسہ استعمال نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار تحت (قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل الخ ( کتاب الاجارۃ ج 6 ص 391 ط: سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72698کی تصدیق کریں
0     664
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات