احکام نماز

حالت جنگ میں نمازیں مؤخر کرکے ایک ایک ساتھ پڑھنا

فتوی نمبر :
72509
| تاریخ :
2024-04-15
عبادات / نماز / احکام نماز

حالت جنگ میں نمازیں مؤخر کرکے ایک ایک ساتھ پڑھنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا جنگ کی حالت میں نماز کو مؤخر کر کے موقع ملتے ہی ساری نمازیں جو رہ گئی ہیں جماعت کے ساتھ ایک ہی بار پڑھ سکتے ہیں؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حالتِ جنگ میں بوقت مقابلہ اگر دشمن کے حملہ کا اس قدر اندیشہ و خوف ہو کہ نماز پڑھنے کی کوئی صورت ممکن نظر نہ آرہی ہو بلکہ نماز میں مشغول ہونے کی صورت میں دشمن کے حملہ آور یاغالب آنے کا یقین ہو ، تو ایسی صورت میں نماز مؤخر کرنے کی گنجائش ہوگی ، البتہ اگر مسلمانوں کے لشکر کی تعداد اس قدر ہو کہ ایک دستہ دشمن کیلئے کافی ہو اور دوسرا دستہ نماز ادا کرے تو ایسی صورت میں نماز مؤخر کرنا شرعاً درست نہ ہوگا بلکہ باری باری سب کو وقت پر ہی ادائیگی نماز کا اہتمام لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ الآیۃ (آیتـ 239 سورۃ البقرۃ)
وفی التاتارخانیۃ: وفی الحجۃ: ولو حصل الأمن فی وسط الصلاۃبأن ذھب العدو لا یجوز أن یتموا صلاۃ الخوف،ولک یصلون صلاۃ الأمن مابقی من صلاتھم (إلی قولہ) وإن کان الخوف أشد من ذلک فأخر الصلاۃ یجوز دفعا للھلاک عن نفسہ الخ (کتاب الصلاۃ ج 2 ص 111-112 ط: ادارۃ القرآن)
وفی احکام القرآن للجصاص: قوله عز وجل فإن خفتم فرجالا أو ركبانا الآية ذكر الله تعالى في أول الخطاب الأمر بالصلاة والمحافظة عليها وذلك يدل على لزوم استيفاء فروضها والقيام بحدودها لاقتضاء ذكر المحافظة لها (إلی قوقلہ) وأمر بها على الحال التي يمكن فعلها قد كان النبي صلى الله عليه وسلم ترك أربع صلوات يوم الخندق حتى كان هوى الليل ثم قضاهن على الترتيب وفي ذلك دليل على جواز ترك الصلاة في حال الخوف قيل له(إلی قولہ) فجائز له أن يصلي راكبا وماشيا إذا خاف وأما قوله فإذا أمنتم فاذكروا الله كما علمكم ما لم تكونوا تعلمون لما ذكر الله تعالى حال الخوف وأمر بالصلاة على الوجه الممكن من راجل وراكب ثم عطف عليه حال الأمن بقوله تعالى فإذا أمنتم فاذكروا الله دل ذلك على أن المراد ما تقدم بيانه في حال الخوف وهو الصلاة فاقتضى ذلك إيجاب الذكر في الصلاة الخ (2/164)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72509کی تصدیق کریں
0     668
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات