عشاء کی نماز کا وقت کب تک ہوتا ہے ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عشاء کی نماز اگر رات بارہ بجے کے بعد پڑھی جائے تو قضاء شمار ہوتی ہے، کیا یہ بات درست ہے ؟اور فجر اور عصر کے بعد قضاء نمازیں پڑھ سکتے ہیں کیا ؟
واضح ہو کہ عشاء کی نماز کا وقت طلوعِ فجر تک رہتا ہے، لہذا اگر کوئی شخص عشاء کی نماز طلوعِ فجر سے پہلے پڑھ لے تو وہ نمازادا شمارہوگی،قضاء نہیں ہوگی، البتہ عشاء کی نماز میں بلا عذر آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے، جس سے بچنا لازم ہے۔
جبکہ فجر کی نماز کے بعد سے طلوع آفتاب تک اور عصر کی نماز کے بعد سے سورج زرد ہوجانے تک قضا نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں۔
کما فی الهداية: وأول وقت العشاء إذا غاب الشفق وآخر وقتها مالم يطلع الفجر الثاني " لقوله عليه الصلاة والسلام " وآخر وقت العشاء حين يطلع الفجر۔اھ (1/ 41)
وفی الفتاوى الهندية: تسعة أوقات يكره فيها النوافل وما في معناها لا الفرائض. هكذا في النهاية والكفاية فيجوز فيها قضاء الفائتة وصلاة الجنازة وسجدة التلاوة. كذا في فتاوى قاضي خان. منها ما بعد طلوع الفجر قبل صلاة الفجر (الی قوله) ومنها ما بعد صلاة العصر قبل التغير۔اھ (1/53)