میرے کزن کی کوئی نوکری نہیں ہے لیکن اسے ایک گھر وراثت میں ملا ہے جس میں وہ رہتا ہے، اور کچھ زمین ہے اس کے پاس، لیکن زمین سے اتنی آمدنی نہیں ہوتی کہ اس پیداوار سے ایک ماہ گزر بسر کرسکے،اس کی بیوی کام کرتی ہے لیکن آمدنی زیادہ نہیں ہے،اور وہ اسکول وغیرہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہیں کر سکتا،برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں کہ کیا میں اپنی زکوٰۃ ان کو دے سکتا ہوں؟
سائل کے کزن کے پاس رہائشی گھر اور مذکور ایسی موروثی زمین جس کی آمدن اس کے گزر بسر کے لئے کافی نہ ہو، بلکہ جو کچھ آمدن آتی ہو وہ ضروریات میں ہی خرچ ہوجاتی ہو، زمین کے علاوہ ساڑھے سات تولہ سونا، ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی، مال تجارت اور ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو، تو وہ مستحقِ زکوٰۃ ہے، اور زکوٰۃ کی رقم سے اس کی معاونت کرنا شرعاً درست ہوگا۔
کما فی الدر المختار: أي مصرف الزكاة (الی قولہ) (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ (باب المصرف، ج 2، ص 339، ط: سعید)۔
کما فی بدائع الصنائع: ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم الخ (باب ما یرجع الی المودی الیہ، ج 2، ص 50، ط: سعید)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0