محترم جناب مفتی صاحب!
ایک عالم صاحب کہتا ہے کہ ہم لوگ اپنے گھروں میں مشین یا ہاتھوں سے جو کپڑے دھوتے ہیں ، اگر ٹھہرا ہوا پانی سے دھوئے تو کپڑے پاک نہیں ہوتے ، ہم تو عموما گھر میں ایک ٹب پانی بھرتے ، اور اسی سے دھوتے ہیں ، کیا یہ طریقہ کار صحیح ہے یا غلط؟
مذکور طریقہ کے مطابق صاف ستھرے اور پانی سے کپڑے دھونا،اور ناپاک کپڑوں کو کم ازکم تین تین مرتبہ صاف پانی سے نکالنا کپڑوں کی پاکی کے لیے شرعاً کافی ہے ، اور اس عمل سے کپڑے بھی پاک ہو جائیں گے۔
جبکہ مذکور عالم موصوف سے اُن کے بتائے ہوئے مسئلہ کی مکمل وضاحت کر کے اس سوال کو دوبارہ ای میل کر دیں ، ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائےگا۔ واللہ أعلم بالصواب!