کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حکومتِ وقت ذاتی اموال مثلاً گھر،دکان،جانور،درخت وغیرہ سے سالانہ ایک معین مقدار ٹیکس وصول کرتی ہے،یہ جائز ہے یا نہیں؟ وضاحت درکار ہے؟
اگر حکومت کے خزانے میں مفادِ عامّہ اور رفاہی ضروریات کو پورا کرنے کی گنجائش نہ ہوتو اس کے لئے لوگوں کی استطاعت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے گھر ،دوکان وغیرہ سمیت دیگر اموال پر ٹیکس عائد کرنے کی گنجائش ہے،البتہ مفادِ عامّہ کے خلاف یا غیر ضروری ٹیکس وصول کرنا اس کے لئے درست نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
وفی الفتاوى الهندية: (والثالث) الخراج والجزية، وما صولح عليه بنو نجران من الحلل وبنو تغلب من الصدقة المضاعفة، وما أخذه العاشر من المستأمنين وتجار أهل الذمة كذا في السراج الوهاج. وتصرف تلك إلى عطايا المقاتلة وسد الثغور وبناء الحصون ثمة، وإلى مراصد الطريق في دار الإسلام حتى يقع الأمن عن قطع اللصوص الطرق، وإلى إصلاح القناطر والجسور، كذا في محيط السرخسي.
وإلى كري الأنهار العظام التي لا ملك لأحد فيها كالجيحون والفرات ودجلة كذا في شرح الطحاوي. وإلى بناء الرباطات والمساجد وسد البثق (1) وتحصين ما يخاف عليه البثق، وإلى أرزاق الولاة، وأعوانهم والقضاة والمفتين والمحتسبين كذا في محيط السرخسي والمعلمين والمتعلمين كذا في السراج الوهاج. ويصرف إلى كل من تقلد شيئا من أمور المسلمين، وإلى ما فيه صلاح المؤمنين كذا في محيط السرخسي.اھ (ج1 ص190 کتاب الزکوۃ،فصل مایوضع فی بیت المال من الزکوۃ ط: ماجدیۃ)۔