کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلے میں ایک مولوی صاحب پیش امام ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ رمضان المبارک میں جو زکوٰۃ نکالتے ہیں، وہ مجھے دیں تاکہ میں کتابیں خرید کر مطالعہ کرسکوں یا آپ مجھے کتابیں لے کر دیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ رمضان میں جو زکوٰۃ نکالی جاتی ہے وہ مولوی صاحب کو کتابیں خریدنے کیلئے دینا جائز ہے کہ نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب تحریر فرمائیں۔ شکریہ!
مذکور امام صاحب موصوف اگر مستحق زکوٰۃ ہوں ، تو زکوٰۃ کی رقم سے ان کی معاونت کرنا اور انہیں کتابیں خرید کر دینا بلاشبہ جائز ہے، تاہم اس معاونت اور کتابیں خرید کر دینے کو ان کے معاوضہ میں شمار کرنا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر: ولو دفعھا المعلم لخلیفتہ ان کان بحیث یعمل لہ لو لم یعطہ صح والا لا الخ
وفی الشامیۃ: (قولہ والا لا) أی لأن المدفوع یکون بمنزلة العوض. (ج۲، ص۳۵۶)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0