السلام علیکم ! ایک رہنمائی درکار ہے، میری والدہ کے پاؤں پر چوٹ آئی ہے اور وہ دل کی مریضہ بھی ہیں، ان کے لیے بیت الخلاء میں کرسی نصب کی ہے ،جس کا رخ تقریباً قبلہ رخ ہے، جب کہ دوسری طرف ممکن نہیں ہے، تو اس سلسلہ میں رہنمائی فرما دیجیے ؟ نیز جو مریضہ کے اس طرح بیٹھنے پر توہین قبلہ کے اقوال نقل کرتے ہیں، ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں بیت الخلاء اگر واقعۃً اس طرز پر بنا ہوا ہو کہ اس میں کرسی نصب کرنے کے بعد جگہ کی تنگی کی وجہ سے اس کا رخ تبدیل کرنا ممکن ہی نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل کی والدہ کےلئے قبلہ رو بیٹھ کر قضائے حاجت کرنے کی گنجائش ہے، لہٰذا لوگوں کا اس صورت میں توہینِ قبلہ کا الزام لگانا درست نہیں ، جس سے انہیں احتراز لازم ہے۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: عن أبي أيوب الأنصاري - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ( «إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة، ولا تستدبروها، ولكن شرقوا أو غربوا» ) متفق عليه اھ
وفی حاشیتہ: (فلا تستقبلوا القبلة) : أي: جهة الكعبة تعظيما لها الخ ( کتاب الطہارۃ ج 2 ص 52 ط: حقانیہ )۔
وفیها ایضاً: عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، قال: «ارتقيت فوق بيت حفصة لبعض حاجتي، فرأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقضي حاجته مستدبر القبلة مستقبل الشام» . متفق عليه.
وفی حاشیتہ: ( «مستدبر القبلة» ) : وفيه أنه يمكن أن يكون قبل النهي أو لعذر كان هناك أو لكونه لا حرج في حقه سيما في حالة استغراقه الخ ( کتاب الطہارۃ ج 2 ص 54 ط: حقانیہ )۔