کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ کچھ دن پہلے میرے دوست کا انتقال ہوا، بعد نمازِ جنازہ جب ہم لوگ آخری دیدار مسجد میں کر رہے تھے میرے ایک دوست نے کفن میں عہد نامہ کی ایک کوپی رکھی۔ کیا اس سے مرحوم سے سوال جواب نہیں ہوں گے؟ میرے دوست نے کہاکہ قرآن شریف کی روشنی میں جائز ہے۔ براہِ کرام رہنمائی فرمائیں؟
عہد نامہ کو روشنائی سے کفن پر لکھنا یا کسی کاغذ وغیرہ پر لکھ کر کفن میں رکھنے سے چونکہ اللہ رب العزت کے مقدس ناموں کی بے حرمتی ہوتی ہے، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی رد المحتار تحت (قوله: یرجی الخ) وقد أفتی ابن الصلاح بأنه لا یجوز أن کتب علی الکفن یٰسین والکهف ونحوهما خوفا من صدید المیت (الٰی قوله) والقول بأنه یطلب فعله مردود لأن منثل ذلك لا یحتج به إلا اذا صح عن النبیﷺ طلب ذلك ولیس کذلك اھ وقدمنا قبیل باب المیاه عن الفتح أنه تکره کتابة القرآن وأسماء اللہ تعالٰی علی الدراهم والمحاریب والجدران وما یفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشیة وطئه ونحوه مما فیه إهانة فالمنع هنا الأولٰی ما لم یثبت عن المجتهد أو ینقل فیه حدیث ثابت فتأمل. (۶/ ۲۴۶) -