۱۔ کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کہتاہے کہ داڑھی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں، داڑھی رکھنے سے کوئی جنت میں نہیں جائے گا، اگر اس سے کہاجائے کہ داڑھی تمام انبیاء اور حضورﷺ کی سنت ہے تو کہتاہے کہ ابوجہل کی بھی داڑھی تھی، سکھ بھی داڑھی رکھتے ہیں، قرآن میں کہیں داڑھی کا حکم نہیں، اس لیے میں نہیں مانتا، داڑھی رکھنے اور ٹوپی پہننے سے کوئی اللہ کے نزدیک نہیں ہوجاتا، لوگ سمجھتے ہیں کہ داڑھی ٹوپی اور نماز پڑھنے سے اللہ کے نزدیک ہوجاتے ہیں، اس بات کو میں نہیں مانتا۔
۲۔ جو یہ کہتاہو کہ حضور کی قبر کی مٹی عام قبر جیسی ہے، ایسے شخص سے تعلق رکھنا یا سیاسی پارٹی میں کسی عہدے پر رکھنا کیساہے؟ نیز جو اس شخص کے عقائد جانتا ہو، پھر بھی اس سے تعلق رکھے اور اس کی باتوں کو چھپانے کی کوشش کرے، ایسے آدمی کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
۱۔ داڑھی کا رکھنا تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہونے کے ساتھ ساتھ احادیث صحیحہ سے ثابت اور سنن متواترہ میں سے ہے، جمہور علماء کرام کے نزدیک واجب کے حکم میں ہے، اور اس کو کتروانا یا ایک مشت سے کم کرنا گناہ کبیرہ اور فسق ہے،لیکن اس سے آدمی کافر نہیں ہوتا، جبکہ اس کی توہین وتحقیر اور انکار کفر ہے، اس لیے شخص مذکور اپنے اس غلط اور باطل نظریہ کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس باطل نظریہ سے توبہ کرلے۔
۲۔ جبکہ آپﷺ کی قبر کی مٹی کو عام قبروں کی مٹی کی طرح سمجھنا عقائد سے جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ محققین علماء نے لکھاہے کہ آپﷺ کی قبر جس مقام پر ہے، اس کا درجہ زمین وآسمان، بلکہ عرش سے بھی اونچا ہے، جبکہ مذکور ذہن کے حامل شخص کو کوئی منصب حوالہ کرنا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
في مشکاۃ المصابیح: وعن ابن عمر قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " خالفوا المشركين: أوفروا اللحى وأحفوا الشوارب ". وفي رواية: ’’أنهكوا الشوارب وأعفوا اللحى‘‘متفق علیه۔ اھـ (ص:۳۸۰)۔
وفي الدر المختار: ومكة أفضل منها على الراجح إلا ما ضم أعضاءه - عليه الصلاة والسلام - فإنه أفضل مطلقا حتى من الكعبة والعرش والكرسي اھـ (۲/۶۲۶)۔
وفي الفتاوی الشامية: ونقل عن ابن عقیل الحنبلي ٲن تلك البقعة ٲفضل من العرش (ٳلی قوله)وقد صرح التاج الفاکهی بتفضیل الأرض علی السماوات لحلوله ۔ صلی اللہ علیه وسلم ۔ بها اھـ (۲/۶۲۶) واللہ اعلم بالصواب!