میں نے ایک مکان کرایہ پر لیا ہے ، اس میں جو کمرہ میرے حصے میں آیا ہے ، اس میں غسل خانہ میں کوموٹ ہے ، جس کا رخ کعبہ کی طرف ہے ، کیا اسے استعمال کرنا درست ہے؟
قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا یا پشت کرنا شرعاً جائز نہیں، حدیث شریف میں اس سےممانعت وارد ہوئی ہے، لہذا مالکِ مکان پر لازم ہے کہ جلد سے جلد مذکور کوموٹ (بیت الخلاء) کو قبلہ کی جانب سے پھیر کر درست سمت پر یعنی شمالاً یا جنوباً دوبارہ تعمیر کرے،تاہم جب تک کسی دوسری جگہ سہولت سے حاجت پوری کرنا ممکن ہو ،تو حتی الامکان مذکور کوموٹ ( بیت الخلاء) کو استعمال نہ کیا جائے ، ورنہ مجبوری میں قبلہ سے رخ پھیر کر شمالاً یا جنوباً کسی طریقہ سے بیٹھ کر قضائے حاجت کی جاسکتی ہے۔
کما فی الدر المختار : (كما كره) تحريما (استقبال قبلة و استدبارها ل) أجل (بول أو غائط) فلو للاستنجاء لم يكره (و لو في بنيان) لإطلاق النهي الخ
و فی رد المحتار : تحت(قوله : لإطلاق النهي) و هو قوله : - صلى الله عليه وسلم - «إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة و لا تستدبروها و لكن شرقوا أو غربوا» رواه الستة و فيه رد لرواية حل الاستدبار و لقول الشافعي بعدم الكراهة في البنيان اھ (1/ 341)۔