مباحات

آوارہ کتے مارنے کا حکم

فتوی نمبر :
70451
| تاریخ :
2024-01-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

آوارہ کتے مارنے کا حکم

السلام علیکم !آج کل ہمارے علاقے میں آوارہ کتوں کی بہتات ہے، صفائی والی کمپنی کے ملازمین انہیں دور چھوڑنے کے لئے ان کے گلے میں رسی ڈال کر تقریباً لٹکا کر یا کھینچ کر انہیں گاڑی میں ڈالتے ہیں اور کہیں چھوڑ آتے ہیں ، جو بادی النظر میں غیر انسانی رویہ ہے،یہ بتلائیے کہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے یا انہیں تلف کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے علاقہ میں آوارہ کتوں کی وجہ سے اگر کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں ان کو مارنے کی بھی گنجائش ہے ، البتہ اس کے لئے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ جس سے ان کی جان فوراً نکلے اور ان کو زیادہ تکلیف نہ ہو ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و جاز قتل ما یضر منھا ککلب عقور و ھرۃ ) تضر ( و یذبحھا ) ای الھرۃ ( ذبحا ) و لا یضر بھا لأنہ لا یفید ، و لا یحرقھا و فی المبتغی یکرہ حراق جراد و قمل و عقرب الخ ( کتاب الحظر و الاباحۃ ، ج 6 ، ص 752، ط : سعید ) ۔ واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 70451کی تصدیق کریں
0     906
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات