السلام علیکم مفتی صاحب ! میرے ہونٹ کے نیچے پیپ والا دانہ تھا ، غسل کے بعد میں نے احتیاط کے ساتھ (تاکہ پیپ والا دانہ مس نہ ہو) تولیہ سے منہ پونچھ لیا ، اب باہر نکلنے کے بعد میں نے شیشے میں دیکھا تو ایسا لگ رہا تھا کہ دانے کی پیپ یا پانی نکل گیا ہے ، تھوڑی دیر بعد میں نے اپنے آنکھ کے پپوٹے (آ نکھ کے اوپری حصے )پر سفیدی مائل خشکی محسوس کی مجھے صابن کی خشکی کا گمان ہوا ، لیکن یہ وہم بھی ہونے لگا کہ پیپ والی خشکی ہے اور اس سے تولیہ بھی ناپاک ہوا ، میں دو ماہ سے وہم کا بیمار ہو ں ، اور کوشش رہتی ہے کہ وہم پر عمل نہ کرو اس لئے وہی تولیہ غسل کے بعد بدن پونچھنےکے لیے استعمال کرتا ہو ۔
نوٹ..دانہ کے بارے میں میرا یہ بھی گمان ہے کہ غسل کے دوران صابن لگانے سے پھوٹ گیا ہو ، براہ کرم اس مسئلہ کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ تولیہ ناپاک ہوا یا نہیں ؟ جزاک اللہ خیر
عام طور پر چہرے پر موجود پیپ کے باریک دانوں میں اس قدر پیپ نہیں ہوتی کہ تولیہ وغیرہ سے پونچھنے کے بعد وہ پیپ جسم کے کسی دوسرے حصہ پر لگ جائے ، اور سائل کو اس بات کا یقین بھی نہیں ہے ، کہ وہ دانہ واقعۃ تولیہ سے منہ پونچھتے ہوئے ٹوٹا ہے یا غسل کرتے ہوئے صابن لگاتے وقت پھوٹا ہے ، نیز محض شک یا گمان کی وجہ سے کسی چیز پر ناپاک ہونے کا حکم بھی نہیں لگایا جاسکتا ، بلکہ اس کے لئے یقین یا کم از کم ظن غالب کا ہونا ضروری ہے ، جبکہ تولیہ کے کسی ایک جانب دانہ کا پیپ لگنے کی صورت میں بھی پورے تولیہ کا ناپاک ہونا قرین قیاس نہیں ، اس لئے سوال میں ذکر کردہ صورت حال کی وجہ سے سائل کا شک میں مبتلا ہونا اور اس وہم کو مزید تقویت دیتے ہوئے تولیہ اور پھر اس کے نتیجہ میں جسم کو ناپاک سمجھنا درست نہیں ، بلکہ سائل کو ان شکوک و شبہات کو مزید توجہ دینے سے احتراز چاہئے ،تاکہ وسوسہ کی بیماری کا سد باب ہو سکے ۔
کما فی الدر المختار: ولو شک فی نجاسۃ ماء او ثوب او طلاق او عتق لم یعتبر الخ (ج 1 ص 151)۔
وفی رد المحتار : تحت(قولہ ولو شک)فی التاترخانیۃ: من شک فی انائہ او ثوبہ (الی قولہ)فھو طاھر ما لم یستیقن الخ(ج 1 ص 151)۔
وفی بدائع الصنائع: والمراد من قولہ اول ما شک ان الشک فی مثلہ لم یصر عادۃ لہ (الی قولہ)وان کان یعرض ذلک کثیرا لم یلتفت الیہ لان ذلک وسوسۃ الخ(کتاب۔الطھارۃ۔ج 1 ص 33)۔