احکام نماز

فجرکی جماعت کے دوران سنتیں اداکرنا

فتوی نمبر :
7008
| تاریخ :
2009-08-26
عبادات / نماز / احکام نماز

فجرکی جماعت کے دوران سنتیں اداکرنا

مفتی صاحب! میں اپنی زندگی کے آخری ۳۲ سال سے دبئی میں رہا ہوں اور اللہ کا شکر ہے، کہ پانچ وقت کی نماز ہمیشہ مسجد میں پڑھتا ہوں، میں آپ سے جو سوال کرنا چاہ رہا ہوں وہ فجر کی سنتوں سے متعلق ہے، میں نے عربوں کو دیکھا ہے اور وہی کرتا ہوں جو وہ کرتے ہیں، میں اگر مسجد میں دیر سے آؤں اور جماعت کھڑی ہو چکی ہو ، تو میں اس وقت سنت ادا نہیں کرتا، بلکہ جماعت کے ساتھ فجر کے فرض ادا کرتا ہوں، پھر نماز کے بعد سنت ادا کرتا ہوں، کیونکہ میں نے تمام عرب کو ایسے ہی کرتا دیکھا ہے، میں نے ایک امام صاحب سے اس کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا کہ فجر کی سنتیں اگر فرائض سے پہلے ادا کرنے سے رہ جائیں، تو اشراق کے بعد پڑھنا افضل ہے ،اور امام صاحب نے مجھے ایک حدیث بتائی جس میں یہی بات ذکر تھی۔
میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ جب میں نے اپنے پاکستانی بھائیوں کو دیکھا کہ وہ فجر کی نماز میں عموماً تاخیر سے آتے ہیں اور روزانہ ہی جب فجر کی نماز شروع ہو چکی ہوتی ہے، وہ سنت ادا کر رہے ہوتے ہیں، میں نے ان میں ایک سے پوچھا تو اُس نے کہا کہ ہم حنفی ہیں، اور اپنے مسلک کے مطابق یہ عمل کرتے ہیں۔
براہِ کرم آپ مجھے بتلائیے کہ کیا کوئی سنتیں فرضوں سے زیادہ اہم ہیں، جبکہ ایک آدمی روزانہ جماعت کی نماز کو نظر انداز کر کے سنت ادا کر رہا ہوتا ہے، حالانکہ دیگر لوگ فرض نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں، کیا ہمارے پاس کوئی حدیث ہے؟ جو اس عمل کا جواز پیش کرے، کیونکہ بہت سے عرب اس بارے میں بُرا بھلا کہتے ہیں ، اور یہ کہتے ہیں کہ جو ایسا عمل کرتا ہے اس کے پاس اس کو ثابت کرنے کے لیے کوئی شرعی دلیل نہیں۔ برائے مہربانی آپ مجھے جواب دیجیے ، تاکہ مجھے تسلی ہو جائے ، اور دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی بتلا سکوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

روزانہ تاخیر سے مسجد میں آنے اور فرض جماعت کے دوران سنتوں میں مشغول ہونے کو معمول بنا لینا بری عادت ہے، جس کے ترک کرنے اور وقتِ نماز سے پہلے مسجد آنے کے اہتمام کی اشد ضرورت ہے، احادیث میں اس عمل کے بڑے فضائل آئے ہیں۔
تاہم کوئی شخص اگر دیر سے پہنچے اور جماعت کھڑی ہو چکی ہو ،اور سنتوں میں مشغولی سے جماعت کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو ، تو اسے چاہیئےکہ سنتیں ترک کر کے جماعت میں شریک ہو جائے بعد میں سنتوں کی کوئی قضاء نہیں۔
البتہ اگر سنتیں ادا کرکے جماعت میں شریک ہو جانے کی اُمید ہو ،خواہ آخری رکعت میں شرکت کی اُمید ہی کیوں نہ ہو ، تو اس صورت میں آنے والے کو چاہیئے کہ ، پہلے جماعت کے مقام سے الگ مسجد کے کسی کونے وغیرہ میں سنتیں ادا کرے ، اور پھر جماعت میں شریک ہو جائے ، اور یہ حکم صرف فجر کی سنتوں کے بارے میں ہے ، جیسا کہ عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت اور دیگر صحابہ کرامؓ کے عمل سے بخو بی معلوم ہوتا ہے۔
اگر سنتیں فرضوں سمیت فوت ہو جائیں ، تو اس صورت میں اسی دن چاشت کے وقت تک اس نماز کی قضاء کرتے ہوئے تبعاً سنتیں بھی پڑھ سکتے ہیں، ان کے فضائل زیادہ ہیں، لیکن اس کے بعد سنتوں کی قضاء نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی سنن الترمذي: عن قتادة، قال: أخبرنا أبو العالية، عن ابن عباس، قال: سمعت غير واحد من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر بن الخطاب، وكان من أحبهم إلي، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس، وعن الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس. اھ (1/ 251)
وفی الدر المختار: (وكذا يكره تطوع عند إقامة صلاة مكتوبة) أي إقامة إمام مذهبه لحديث «إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة» (إلا سنة فجر إن لم يخف فوت جماعتها) ولو بإدراك تشهدها، فإن خاف تركها أصلا اھ (1/ 377)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: إلا سنة فجر) لما روى الطحاوي وغيره عن ابن مسعود أنه دخل المسجد وأقيمت الصلاة فصلى ركعتي الفجر في المسجد إلى أسطوانة وذلك بمحضر حذيفة وأبي موسى، ومثله عن عمر وأبي الدرداء وابن عباس وابن عمر اھ (1/ 378)
وفی الدر المختار: (ولا يقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح) لورود الخبر بقضائها في الوقت المهمل، بخلاف القياس فغيره عليه لا يقاس اھ (2/ 57)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله ولا يقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لا يقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فيقضيها تبعا لقضائه لو قبل الزوال؛ وما إذا فاتت وحدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع، لكراهة النفل بعد الصبح. وأما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. وقال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال كما في الدرر. قيل هذا قريب من الاتفاق لأن قوله أحب إلي دليل على أنه لو لم يفعل لا لوم عليه. وقالا: لا يقضي، وإن قضى فلا بأس به اھ (2/ 57)
وفیه أیضا: (قوله لورود الخبر) وهو ما روي «أنه - صلى الله عليه وسلم - قضاها مع الفرض غداة ليلة التعريس بعد ارتفاع الشمس» كما رواه مسلم في حديث طويل. اھ (2/ 58) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 7008کی تصدیق کریں
0     883
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات