میں سٹوڈنٹس ویلفئر ٹرسٹ ضلع کرک کے نام سے ایک فلاحی ادارہ چلا رہا ہوں، جس سے میں سکولوں اور مدرسوں کے مستحق بچوں کو یونیفارم اور سٹیشنری مہیا کر تا ہوں، ان مستحق بچوں کی مکمل تحقیق کرتا ہوں جس کے بارے میں میں خود معلوم کرتا ہوں، محلے داروں سے ، مسجد امام اور وہاں کے عالم دین سے بھی معلوم کرتا ہوں اور مکمل تسلی ہونے کے بعد ان بچوں میں یہ سامان تقسیم کرتا ہوں ، اس ادارے کیلیے چندہ دوسروں سے اکھٹا کرتا ہوں ، کبھی کھبار ایسا ہو جاتا ہے کہ میں جب کسی بچے کو یہ سامان مہیا کرتا ہوں، سامان دینے کے بعد مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ بچہ اس سامان کا مستحق نہیں تھا ، اب اس حوالے سے میرے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ نوٹ: تحریری فتویٰ کی درخواست کی جاتی ہے۔
نوٹ : سائل سے بذریعہ فون یہ معلوم ہوا ہے ! کہ وہ لوگوں سے زکوٰۃ وصدقات دونوں رقم لیتے ہیں ، اور ان پیسوں سے یونیفارم اور سٹیشنری کا سامان خرید کر سو فیصد تحقیق کرنے کے بعد بچوں کو دیتے ہیں، لیکن سو فیصد تحقیق کرنے کے باوجود بعض اوقات بعد میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی مالدار بچے کو بھی سامان ملا ہے ۔
سائل اگر واقعۃً زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی رقوم پوری تحقیق اور جانچ پڑتال کے بعد ہی مستحق بچوں کو دیتا ہو، تو ایسی صورت میں اصل مالکان کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اور سائل بری الذمہ ہو جائے گا ، اگرچہ بعد میں معلوم ہو کہ فلا ں بچہ مستحق نہیں تھا ۔
کما فی الدر المختار : ( دفع بتحر ) لمن یظنه مصرفاً ( فبان انه عبدہ أو مکاتبه أو حربی ولو مستأمناً اعادھا ) لما مر (و ان بان غناہ أو کونه ذمیاً أو انه ابوہ أو ابنه أو امرأته أو ھاشمی لا ( یعید لانہ اتی بما فی وسعه الخ ( باب المصرف، ج 2 ، ص 352 ، ط : سعید ) ۔
و في الھندية : اذا شك وتحرى فوقع في اكبر رأيه انه محل الصدقة فدفع اليه أو سأل منه فدفع أو رآه في صف الفقراء فدفع فان ظھر محل الصدقة جاز بالاجماع وكذا ان لم يظھر حاله عنده وأما اذا ظھر أنه غنى أوها شمي أو كافر (الى قوله) فانه يجوز وتسقط عنه الزكاة في قول ابی حنيفة ومحمد رحمھما الله تعالى الخ (باب في المصارف ،ج 1، ص189 ،190 ، ط: ماجدیه ) -واللہ اعلم
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0