احکام نماز

مسبوق کا نماز میں شامل ہونے کے بعد ثناء پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
69820
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

مسبوق کا نماز میں شامل ہونے کے بعد ثناء پڑھنے کا حکم

مفتی صاحب! میں نے ایک مسئلہ سنا کہ اگر باجماعت نماز جس میں اونچی آواز میں قرأت نہ ہو رہی ہو ، اگر دوسری یا تیسری یا چوتھی رکعت میں کوئی بندہ شامل ہوگا نماز میں تو وہ ثناء نہیں پڑھے گا، لیکن مجھے اس مسئلہ کی معلومات نہیں تھی اور میں جب بھی دوسری تیسری رکعت میں شامل ہوتا تو میں ثنا پڑھ لیتا تو اب میری ان نمازوں کا کیا حکم ہوگا ؟ کیا مجھے وہ نمازیں دوبارہ پڑھنی ہوں گی؟ اگر دوبارہ پڑھنی ہوں گی تو ان نمازوں کی کیا نیت ہو گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کوئی شخص ایسے وقت میں آ کر جماعت میں شریک ہوا کہ امام سری نماز پڑھا رہا تھا یا جہری نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت پڑھا رہا تھا تو ایسی صورت میں مسبوق کے لئے یہی حکم ہے کہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد ثناء پڑھ کر خاموش ہو جائے، چنانچہ سائل اب تک مذکور طریقہ سے جتنی نما زیں ادا کرچکا ہے، وہ تمام نمازیں درست اور صحیح ادا ہوچکی ہیں، اعادہ کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیة: إن كان الإمام يجهر لا يثني، وإن كان يسر يثني اھ (1/ 488)۔
و فی البحر الرائق: (قوله مستفتحا) هو حال من الوضع أي يضع قائلا: سبحانك اللهم و بحمدك و تبارك اسمك و تعالى جدك و لا إله غيرك، و قد تقدم أنه سنة لرواية الجماعة أنه كان - صلى الله عليه وسلم - يقوله إذا افتتح الصلاة أطلقه فأفاد أنه يأتي به كل مصل إماما كان أو مأموما أو منفردا لكن قالوا المسبوق لا يأتي به إذا كان الإمام يجهر بالقراءة للاستماع و صححه في الذخيرة اھ (1/ 327)۔
وفیه ایضاً: و قد قدمناه أن المسبوق يأتي بالثناء إلا إذا كان إمامه يجهر بالقراءة و يأتي به أيضا إذا قام إلى قضاء ما سبق به اھ (1/ 329)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69820کی تصدیق کریں
1     1433
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات