مباحات

غیر آباد کاریز پر قبضہ کرنےکا حکم

فتوی نمبر :
69748
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

غیر آباد کاریز پر قبضہ کرنےکا حکم

غیر آباد کاریز پر قبضہ کرنا کیسا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ غیر آباد کاریز اگر گورنمنٹ کے زیرِ انتظام ہو تو کسی بھی شخص کے لئے گورنمنٹ کی اجازت کے بغیر اُس پر قبضہ کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے،البتہ اگر کوئی شخص گورنمنٹ کی اجازت سے ایسی کاریز کو آباد کرے تو وہ شرعاًاس کا مالک بن جا ئے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبي داود: عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن، عن غير واحد، «أن رسول الله ﷺ أقطع بلال بن الحارث المزني معادن القبلية، وهي من ناحية الفرع»، فتلك المعادن لا يؤخذ منها إلا الزكاة إلى اليوم۔اھ (3/173)
وفی بدائع الصنائع: فالأرض الموات هي أرض خارج البلد لم تكن ملكا لأحد ولا حقا له خاصا فلا يكون داخل البلد موات أصلا۔اھ (6/194)
وفی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (إذا أحيا وعمر أحد أرضا من الأراضي الموات بالإذن السلطاني يصير مالكا لها، وإذا أذن السلطان أو وكيله أحدا بإحياء الأرض على أن ينتفع بها فقط ولا يتملكها فيتصرف ذلك الشخص في تلك الأرض على الوجه الذي أذن به ولكن لا يملك تلك الأرض)۔اھ (3/280)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69748کی تصدیق کریں
0     519
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات