مباحات

آن لائن ڈیلیوری پر اضافی رقم دینےکا حکم

فتوی نمبر :
69549
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

آن لائن ڈیلیوری پر اضافی رقم دینےکا حکم

میں نے ایک چیز آن لائن منگوائی تھی، جس کی قیمت 1098 روپے لکھی ہوئی تھی، جب میرا پارسل گھر پہنچا تو ڈیلیوری والے نے مجھ سے 1200 روپے مانگے اور میں نے اس کو 1200 روپے دے دیے،اب پوچھنا یہ ہے کہ میں نے اسے 102 روپے سود تو نہیں دیے ؟ اور اس 102 روپے کی وجہ سے وہ چیز میرے لئے جائز ہے یا نا جائز؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں پارسل ڈیلیور کرنے والے نے مذکور چیز کی قیمت سے زائد 102 روپے اگر ڈیلیوری چارجز کی مد میں لیے ہوں تو یہ سود نہیں، بلکہ یہ ڈیلیوری کے چارجز (اُجرت) ہے جس کا لینا اسکے لئے جائز ہے، لہذا سائل کیلئے مذکور چیز کا استعمال درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: وتجوز بمثل الأجرة أو بأكثر أو بأقل بما يتغابن فيه الناس لا بما لايتغابن۔اھ (6/27)
وفی مجمع الأنهر: (ويجوز أن يضم إلى رأس المال أجرة القصارة والصبغ) سواء كان أسود أو غيره (والطراز) بكسر الطاء وبالراء المهملتين وآخره زاي: علم الثوب (والفتل) بفتح الفاء ما يصنع بأطراف الثياب بحرير أو كتان (والحمل) أي أجرة حمل المبيع من مكان إلى مكان برا أو بحرا۔اھ (2/75)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69549کی تصدیق کریں
0     803
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات