السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرے دو سولات ہیں ، اگر آپ مہربانی فرماکر رہنمائی کردیں تو میں شکر گزار ہوں گا، میں خواتین کے میک اپ اور چہرے کے لئے دیگر مصنوعات انٹرنیٹ پر بیچتا ہوں ، میں نے نیا کاروبار شروع کیا، مگر شرعی اصولوں پر چلتے ہوئے بیچ نہیں پا رہا تھا ، مثلاً کسی خاتون کا چہرہ دکھائے بغیر بیچنے کی کوشش ناکام ہوئی ، مجھے بتایا گیا کہ خواتین کسی کے مشورے کے بغیر چہرے پر مصنوعات نہیں لگاتیں ، اب میں ان خواتین سے رابطہ کرتاہوں جو یوٹیوب وغیرہ پر ویڈیوز لگاتی ہیں ، میں ان کو ویڈیو بنانے کے پیسے دیتاہوں ، مگر میری دو شرائط ہوتی ہیں ، ایک یہ کہ وہ جو ویڈیو اپنے اکاؤنٹ پر لگائیں گی، اس میں وہ کسی طرح نظر نہیں آئے گی ، دوسری یہ کہ وہ مجھے ایک علیحدہ ویڈیو دیگی جس میں وہ خود سامنے آکر خواتین کو میری مصنوعات کے فوائد بتائے گی ، دوسری ویڈیوجس میں ان کا چہرہ دکھ رہا ہے ، وہ صرف خواتین کو ہی دکھائی جائے گی، کیا یہ طریقہ شرعی طور پر صحیح ہے ؟ اگر اس میں کوئی غلطی یا گناہ کا شبہ ہے تو میری اصلاح فرمائیں اور کوئی بہتر راستہ تجویز فرمائیں، دوسرا سوال پہلے سے جڑا ہوا ہے ، اب جو ویڈیو صرف خواتین کو دکھانی ہے ، اس پر میں پیسے خرچ کر کے فیس بک اور یوٹیوب پر ایڈ ( AD ) چلاتا ہوں اور اس طرح چلاتاہوں کہ صرف خواتین کو ہی دکھے ، وہ مجھے رزلٹ بھی دکھا تے ہیں کہ میرے پیسوں سے کسی مرد کو ویڈیو نہیں دکھائی گئی ، جو چیز مجھے تنگ کررہی ہے وہ یہ ہے کہ فیس بک اپنی طرف سے کچھ مردوں کو بھی وہ ویڈیو دکھا رہا ہے ، یا پھر وہ مرد کسی طرح اس ویڈیو کو ڈھونڈ رہے ہیں ، جس کا علم مجھے نہیں ہے ، اگر تو اس کا گناہ مجھے ہوگا پھر تو میں اس کو بند کرکے صرف بغیر چہرے والی ہی ویڈیو استعمال کروں ، میری رہنمائی فرمائیں یا کوئی بہتر راستہ تجویز فرمائیں، ان دونوں معاملات میں احسن عمل کیا ہوگا؟ براہِ مہربانی تجویز فرمائیں ، میری مصنوعات سے خواتین کو بہت فائدہ ہورہا ہے ، مگر ان معاملات سے میں پریشان ہوں۔
سائل کو اپنی پروڈکٹ کی تشہیر کے لئے خواتین سے مذکور دونوں شرئط کی پابندی کے ساتھ ویڈیو بنوانے اور دوسری قسم کی ویڈیو فیس بک وغیرہ پر صرف خواتین گروپس میں اپ لوڈ کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، اگرتمام تراحتیاط کےباوجود فیس بک مردوں کو بھی وہ ویڈیو دکھادےتواس صورت میں سائل پر گناہ نہ ہوگا۔
وفی أحکام القرآن للجصاص: وقوله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى.الخ (ج2 ص 381 مطلب البیان علی وجھین ط العلمیۃ)۔