ٹیسٹ ٹیوب بےبی جائز ہے اسلام میں ؟
واضح ہو کہ ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے حصولِ اولاد کے لئے جو مختلف طرق رائج ہیں ، ان میں سے سخت مجبوری کے تحت صرف اس طریقے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، کہ مادۂ منویہ اپنے زندہ شوہر کا ہو ، اور پھر شوہر اور بیوی کے نطفے کا باہم اختلاط کر کے یہ ٹیوب بیوی کے رحم میں رکھ دی جائے ، جہاں وہ حمل پرورش پائے ، اور یہ عمل خود بیوی، یا اس کے شوہر ، یا کسی ماہرمعالج عورت سے کروایا جائے ، اور اس دوران ستر و حجاب کا پورا خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ کھولا جائے ، لہذا اگر اس طریقے کو اختیار کر کے ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے اولاد حاصل کی جائے ، تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ، اس کے علاوہ باقی طریقے غیر فطری ہونے کے ساتھ غیر شرعی بھی ہیں ، جن سے احتراز لازم ہے۔
کما فی سنن ابی داؤد : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم : لا يحل لامرئ يؤمن بالله و اليوم الآخر أن يسقى ماءه زرع غیرہ اھ (293/1)
و في الفقه الاسلامى : التلقيح الصناعي : هو استدخال المنى لرحم المرأة بدون جماع ، فان كان بماء الرجل لزوجته جاز شرعاً ، اذ لا محدود فيه بل قد يندب اذا كان هناك مانع شرعى من الاتصال الجنسي اھ (559/3) واللہ اعلم
پینٹ فولڈ کرکے نماز پڑھنے کا حکم -خاندانی منصوبہ بندی کے جائز و ناجائز طریقے
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0شادی سے قبل اپنی مرادنگی چیک کرنے کے لئے کسی غیر عورت سے ہمبستری کرنا جائز ہے؟
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0مردوں اور عورتوں کے لیے خضاب، اور الکحل والی پرفیوم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0