احکام نماز

امام کا نماز میں مخصوص جگہوں سے قرات کرنا

فتوی نمبر :
69103
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

امام کا نماز میں مخصوص جگہوں سے قرات کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد کا پیش امام حافظِ قرآن ہے ,مگر فجر کی نمازمیں سورۃ الفتح کی آیت نمبر 1 تا 10 اور دوسری رکعت میں آیت نمبر 11 تا 14 پڑھتے ہیں، دوسرے دن سورۃ الواقعۃ کی آیت نمبر 1 تا 38 اور دوسری رکعت میں آیت 39 تا 56 جبکہ تیسرے روز سورۃ الحشر کی آیت نمبر 18 تا 24 اور دوسری رکعت میں سورۃ الطارق پڑھتے ہیں , انہی سورتوں کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتے ، اور یہ طریقہ تقریباً دس سال سے ہے حالانکہ حافظِ قرآن ہیں , ان کو تو قرآن مجید کے جگہ جگہ سے پڑھنا چاہیۓ ، ویسے اپنی تقریر میں وہ کہتے ہیں کہ سورۃ یٰسین کو قرآن کا دل بتایا گیا ہے اور اس کے پڑھنے کا بے حد ثواب ہے۔
لہذا قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بتائیں کہ ان کا یہ عمل حافظِ قرآن ہونے کے ناطے کیسا ہے؟ اور جو مسجد کی انتظامیہ ہے اس کو اس بارے میں پیش امام صاحب سے بات کرنی چاہیۓ یا نہیں؟ کیوں کہ انہوں نے آج تک اس سلسلے میں ان سے کوئی بات نہیں کی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

امام موصوف کا مذکور طرزِ عمل اگرچہ جائز ہے اور بلاوجہ اس پر معترض ہونا بھی درست نہیں , مگر جب امام صاحب حافظِ قرآن ہے تو اسے چاہیۓ کہ مقتدیوں کی نشاط اور دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے قراءتِ مسنونہ کا اہتمام کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الشامیة : قال فی جامع الفتاویٰ : و ھذا اذا صلی (الی قوله) و فی فتح القدیر : لان مقتضی الدلیل عدم المداومة علی العدم كما یفعله حنفیة العصر، فیستحب ان یقرأ ذالك احیانا تبركا بالماثور، فان لزوم الایھام ینتفی بالترك احیانا ، و لذا قالوا : السنة ان یقرأ فی ركعتی الفجر بالكافرون و الاخلاص (الی قوله) ھذا ، و قید الطحاوی الاسبیجابی الكراھة بما اذا رائ ذالك حتما لایجوز غیره اما لو قرئه للتیسیر علیه او تبركا بقراءته علیه الصلاة و السلام , فلا كراھة لكن بشرط ان یقرأ غیرھا احیانا لئلا یظن الجاھل ان غیرھا لا یجوز ، الخ(1/543)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69103کی تصدیق کریں
0     976
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات