احکام نماز

طہارت میں شک ہوجانے کے بعد نماز کا حکم

فتوی نمبر :
69023
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

طہارت میں شک ہوجانے کے بعد نماز کا حکم

ترجمہ: جس کو وضو کے بارے میں شک ہو کہ کیا وضو ٹوٹ گیا ہے یا نہیں تو شریعت ایسے شخص کو نماز پڑھنے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں ؟ جسم پاک ہے یا نہیں ، ایسے شخص کے نماز کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کسی شخص کو وضو کرنا اور جسم کا پاک ہونا یقینی طور پر یاد ہو اور بعد میں اسے وضو ٹوٹنے یا جسم کے ناپاک ہونے کا شک ہوگیا ہو ، تو محض شک کی وجہ سے اس کا وضو اور جسم ناپاک نہ ہوگا، بلکہ اس کے لئے دوبارہ وضو اور جسم کو پاک کیے بغیر بھی نماز پڑھنا جائز اور درست ہوگا ، البتہ اگر وضو ٹوٹ جانے یا جسم کے ناپاک ہونے کا یقین یا ظنِ غالب ہو تو ایسی صورت میں نماز سے قبل دوبارہ وضوء کرنااور جسم کو پاک کرنا لازم اورضروری ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی شرح الاشباہ و النظائر : من شک ھل فعل او لا فالاصل عدمہ ، و یدخل فیھا من تیقن الفعل و شک فی القلیل و الکثیر ، و بیان ما ثبت بالیقین لا یزول الا بالیقین ۔ (14/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
میر اٖفضل اکبر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69023کی تصدیق کریں
0     1344
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات