حضرات مفتیانِ کرام! جیسا کہ یہ مسئلہ بتایا جاتا ہے کہ کتے کا جسم اگر بھیگ جائے تو وہ ناپاک نہیں ہے، جب تک اس پر کوئی ظاہری نجاست نہ لگی ہوئی ہو اور اس کے لعاب اور پسینہ کو ناپاک بتایا جاتا ہے،تو اس میں خلاصہ یہ کریں کہ جسم پر جب پسینہ آیا اور سوکھ گیا تو کیا جسم پاک ہو گیا اس کتے کا ؟ظاہر ہے کہ جب ذکر ہے پسینہ کا ہے تو پسینہ تو آتا ہی ہوگا ہر کتے کو کسی نہ کسی موقع پر، اگر جسم پر پسینہ آیا اور سوکھنے کی وجہ سے پاک ہو گیا اور پانی پڑا تو اس میں سمجھ میں آتا ہے کہ جسم ناپاک نہیں ہوگا مس ہونے کی وجہ سے ،لیکن اگر جسم پر پسینہ ظاہر ہوا اور سوکھنے کی وجہ سے جسم پاک نہیں ہوا اور اس پر پانی پڑ کر وہ تربتر ہو گیا ،اب وہ مس ہوتا ہے کسی کے کپڑے یا جسم سے ,تو اب اس پر ناپاکی کا حکم کیوں نہیں لگے گے؟ جب کہ اس کا جسم ناپاک تھا پسینے کی وجہ سے، احقر کا جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ کتے کا پسینہ اور لعاب نجس ہے ،اگر کسی کے بدن پر کتے کا لعاب یا پسینہ لگ جا ئے تو وہ ناپاک ہو جائیگا ، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کتے کے جسم پر پسینہ آنے کے بعد وہ سوکھ گیا ، پھر وہ کتا پانی میں لوٹ پوٹ ہو کر اپنا جسم گیلا کر دے تو اس پانی کا بھی وہی حکم ہو گا ، یعنی اگر کسی کے بدن یا کپڑوں پر وہ پانی لگ جائے تو وہ ناپاک ہو جائیگا ، لہذا س کا دھونا شرعاً لاز م ہو گا ۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله وحكم عرق كسؤر) أي العرق من كل حيوان حكمه كسؤره لتولد كل منهما من اللحم كذا قالوا: ولا خفاء أن المتولد هو اللعاب أي لا السؤر، لكن أطلق عليه للمجاورة نهر(مطلب والسؤر ج1 ص228 ط: سعید )۔
وفی بدائع الصنائع: أن الكلب إذا وقع في الماء، ثم خرج منه فانتفض، فأصاب إنسانا منه أكثر من قدر الدرهم لا تجوز صلاته.وذكر في العيون أيضا أن كلبا لو أصابه المطر فانتفض، فأصاب إنسانا منه أكثر من قدر الدرهم إن كان المطر الذي أصابه وصل إلى جلده؛ فعليه أن يغسل الموضع الذي أصابه وإلا فلا(فصل فی الطھارۃ الحقیقۃ ج1 ص74 ط:سعید )۔
وفی الھندیۃ: وسؤر الكلب والخنزير وسباع البهائم نجس. كذا في الكنز(فصل الثانی فیما لایجوزبہ التوضؤ ج1 ص24 ط:ماجدیہ)۔