مباحات

گاڑی کے شیشے پر مقدس کلمات لکھنا

فتوی نمبر :
68747
| تاریخ :
2023-10-24
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

گاڑی کے شیشے پر مقدس کلمات لکھنا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
زمانے کے گزرنے کے ساتھ روز کوئی نہ کوئی نئی چیز یا عمل وجود میں آتا ہے، میں نے گاڑیوں کے پیچھے والے شیشوں پر اور نوجوانوں کی ٹوپیوں پر اور قمیصوں پر IYI دیکھا توا س کا سمجھ نہیں آتا ، آخر معلوم ہوا کہ یہ ارطغرل فلم کا نشان ہے ، شان تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے بعد نبیﷺ کی ہے، ضمیر نے رائے دی کہ نبیﷺ کی شان میں ایک عربی کا کلام ہے "و امتلات الارض من تحمید احمدؐ" اس پر محنت کرکے اس عام کر دو ں ، گاڑیوں کے اگلے شیشے پر تاکہ نظر کے سامنے نبیﷺ کا نام اور درود شریف عام ہو جائے , عربی کے اس جملے میں اسم احمدکے ساتھ مجتبیٰ کا اضافہ کرنے کی خواہش ہے ، یعنی "و امتلات الارض من تحمید احمدؐ"

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ احمد اور مجتبیٰ دونوں نبی کریمﷺ کے ناموں میں سے ہیں ، احمد کا معنی زیادہ تعریف کرنے والا ، اور مجتبیٰ کا معنی منتخب کیاہو ا ہے، لہذا دونوں ناموں کو سوال میں مذکور عربی جملے "و امتلات الارض من تحمید احمدؐ" میں ایک ساتھ ملا کر لکھنے میں کوئی حرج نہیں، تاہم مذکور ناموں کو ایسی جگہوں پر لکھنے سے بچنا چاہیئے جہاں ان پاک ناموں کی بے ادبی کا اندیشہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی معجم اللغة العربیة : أحمد [مفرد]: ‌من ‌أسماء ‌النبي ﷺ {و مبشرا برسول يأتي من بعدي اسمه أحمد}۔اھ (1/556)۔
و فیه ایضاً : اجتبى يجتبي ، اجتبِ ، اجتباءً ، فهو مُجتبٍ ، و المفعول مُجتبًى ، اجتبى الشَّيءَ : اصطفاه و اختاره لنفسه " {وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ} "۔اھ (1/345)۔
و فی الدر المختار : الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله و ملائكته و رسله و يحرق الباقي و لا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن و هو أحسن كما في الأنبياء۔اھ (6/ 42)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68747کی تصدیق کریں
0     1765
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات