نجاسات اور پاکی

”سپر ویٹ“ واٹر سے طہارت کا حکم

فتوی نمبر :
68138
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

”سپر ویٹ“ واٹر سے طہارت کا حکم

عرض ہے کہ انٹرنیشنل اور لوکل سرویز کے مطابق پاکستان ایک خاموش قیامت کی طرف بڑھ رہا ہے، جسے پانی کا قحط کہا جاتا ہے۔ سن 2027 کے بعد پاکستان کے اندر موجودہ پانی کی مقدار بڑی تیزی سے کم ہوتی جائے گی اور اندازہ ہے کہ 2030 میں پاکستان کے پاس موجودہ پانی کا صرف 30 فیصد رہ جائے گا۔ جبکہ آبادی تقریبا ًدگنی کے قریب ہو گی۔ ایسی صور ت حال میں پانی تقریباً نایاب ہوتا جائے گا۔ اس خاموش قیامت کے لیے ابھی سے جد و جہد اور تیاری کر نا بہت ضروری ہے۔ المیہ یہ ہے کہ علم اور ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے پاکستان کے اندر نہانے دھونے اور صفائی کے لیے پینے والا پانی ہی استعمال کیا جاتا ہے جو یا قدرت طویل دورانیوں میں زیر زمین بناتی ہے یا پھر بہت سارے پیسے خرچ کر کے کارخانوں میں بنایا جاتا ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ملکوں میں پینےاور صفائی اور نہانے دھونے کے لیے پانی مختلف سٹینڈر کا ہوتا ہے۔ اس لئے اس احساس کو اجاگر کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ ہم پانی کا کم سے کم استعمال ممکن بنائیں۔ سائنس بھی اپنے طور پر اس کے لیے مختلف کاوشوں میں مصروف ہے۔ اس وقت پانی کے گیلے کو بڑھانے کے لیے جدید سائنسی تصورات پر کام ہو رہا ہے اور سپر ویٹ واٹر کے نام پر ایسا پانی تیار کیا گیا ہے کہ جس کے اندر استعمال ہونے والے خفیف مقدار میں وہ اجزاء سے ماخوذ ہوتے ہیں، اس کے علاوہ مخصوص زمین غیر نامیاتی معدنی اجزاء اور نمکیات کی انتہائی خفیف مقدار ایک خاص سائینسی طریقے اور تناسب سے استعمال ہوئی ہے، اس پانی میں تمام حلال اجزاء استعمال ہوتے ہیں جو بے ضرر اور مفید ہے، اس طرح پانی کے انتہائی قلیل مقدار میں جسمانی صفائی کا کام لے سکتے ہیں۔ اس لیے ”سپر ویٹ واٹر سپرے “ تیار کیا گیا ہے کہ جس کے سپرے سے ہمیں وہی صفائی، نفاست، اور تازگی حاصل ہو جاتی ہے۔ جو کہ ہمیں پانی کی آدھی بالٹی استعملا کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح قلیل پانی کے طریقے سے زیر زمین انتہائی قیمتی پانی کو پینے کے قابل رہنے دیا جا سکتے ہیں۔ اس لئے اپنی روز مرہ عام جسمانی صفائی کی ضرور یات کے لیے ’’سپر ویٹ‘‘واٹر کو استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ خصوصی طور پر ہاتھ منہ دھونا اور وضو کرنا وغیرہ اس میں شامل ہے۔ کیونکہ دن رات میں پانچ دفعہ بہت سارا پانی استعمال ہو جاتا ہے جو لا محالہ ڈارین یا ضائع ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس قیمتی پانی کو بچانے کے لیے سپر ویٹ واٹر کو خصوصی طور پر ہاتھ منہ دھونے اور وضو کے لیے استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اور چونکہ وضو کا معاملہ خالصتاً مذہبی نوعیت کا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ سپر ویٹ واٹر کے استعمال کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ اس کے استعمال کی نہ صرف تجویز پیش کریں بلکہ خود بھی اس کے استعمال کو نمونہ بنائیں۔ تاکہ ہم آنے والے برے وقت میں بہتر لائحہ عمل اختیار کر سکیں۔ اس لیے جامعہ بنوریہ اور دیگر جامعات سے ہاتھ منہ دھونے اور وضو کے لیے سپر واٹر کے استعمال کی سفارش کی جاتی ہے اور فتویٰ طلب کرنے کے درخواست گزار ہیں کہ علماء اسے وقت کی ضرورت قرار دیں اور منہ ہاتھ دھونے اور وضو میں استعمال ہونے والے پانی کی بڑی مقدار کو اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے بچانے کی مستقبل بنیادوں پر منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہوں۔ اس تیار کردہ سپر ویٹ پانی میں جدید سائنسی اجزاء کی مقدار قدرتی طور پر پائے جانے والے نہری، دریائی اور چشمے وغیرہ کے پانی کے اندر پائے جانے والے اجزاء اور کثافتوں سی بھی کہیں کم ہوتی ہے۔ اس لئے یہ ان پانیوں سے زیادہ صاف پانی ہی ہے۔ کیونکہ اس کی تیاری میں سائنسی طریقوں پر تیار کردہ خالص پانی استعمال ہوا ہے۔ جامعہ کے مفتی صاحبان کے سمجھنے کے لیے کچھ اجزاء کے متعلق نیچے انگریزی زبان میں کچھ تفصیل کی گئی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، جس کی حفاظت کرنے اور ضائع ہونے سے بچانے کے لیے احادیث مبارکہ میں بہت ترغیب وارد ہوئی ہے، چنانچہ ایک روایت میں بہتے ہوئے جاری پانی کے کنارے وضو کرتے ہوئے بھی پانی کے اسراف سے منع کیا گیا ہے ، جبکہ دیگر بعض روایات میں نبی کریم ﷺ سے ایک مد پانی سے وضو کرنے اور ایک صاع پانی سے غسل کرنے کا ثبوت ملتا ہے، لیکن دوسری طرف وضو فقط نظافت اور صفائی ستھرائی کا نام نہیں، بلکہ ایک عبادت ہے، جس کا طریقہ کار نبی کریمﷺ سے احادیث مبارکہ میں نقل کیا گیا ہے، چنانچہ فقہاء کرام نے قرآن واحادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ اگر پانی موجود ہو تو اعضاء وضو پر کم از کم اتنا پانی بہانا کہ ان اعضاء سے پانی ٹپکنا شروع ہو جائے ، لازم اور ضروری ہے ، اس کے بغیر وضو درست ہی نہیں ہوتا، جبکہ ہر ہر عضو کو تین دفعہ دھونا، کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وغیرہ وضو کی سنتوں اور مستحبات میں سے ہے، لہذا سائل نے ”سپر ویٹ واٹر “نامی اسپرے کی جو تفصیل ذکر کی ہے ، وہ اگر پاک اور حلال اجزاء سے تیار کر دہ ہو اور اعضاء وضو پر اس سے اسپرے کر دینے سے اعضاء سے پانی کے قطرات ٹپکتے ہوں، تو اس سے اگر چہ وضو کی فرضیت تو ادا ہو جائے گی، لیکن وضو میں ہر ہر عضو کو تین تین دفعہ دھونا، اور خصوصاً کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا مذکور اسپرے سے بظاہر ممکن معلوم نہیں ہوتا، لہذا عام حالات میں ( جب پانی کی وافر مقدار موجود ہو) مذکور اسپرے کو وضو کے لیے استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہئیے ، البتہ وضو کے علاوہ ہاتھ منہ دھونے یا مطلق نظافت وصفائی ستھرائی کے لیے غسل کرنے میں اس کا استعمال بلا شبہ جائز و درست ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن عمرو بن العاص أن النبي صلى الله عليه وسلم: مر بسعد وهو يتوضأ فقال: «ما هذا السرف يا سعد» . قال: أفي الوضوء سرف؟ قال: «نعم وإن كنت على نهر جار» . رواه أحمد وابن ماجه اھ (1/ 133)
و في صحيح الجامع الصغير وزيادته: 8024 - «يجزئ من الوضوء مد ومن الغسل صاع» . (صحيح) [هـ] عن عقيل. الصحيحة 2447: ابن خزيمة، ك - جابر. حم، ت، أبو عوانة - أنس. طس - ابن عباس. (2/ 1330)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (ومنها) : المبالغة في المضمضة والاستنشاق، إلا في حال الصوم فيرفق لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال للقيط بن صبرة «بالغ في المضمضة، والاستنشاق إلا أن تكون صائما فارفق» ، ولأن المبالغة فيهما من باب التكميل في التطهير، فكانت مسنونة إلا في حال الصوم لما فيها من تعريض الصوم للفساد. (1/ 21)
و في الدر المختار: وشرط لتصحيح الوضوء زوال ما ... يبعد إيصال المياه من إدران
كشمع ورمص ثم لم يتخلل ... الوضوء مناف يا عظيم ذوي الشان
وزيد على هذين أيضا تقاطر ... مع الغسلات ليس هذا لدى الثاني اھ (1/ 88)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: تقاطر) وأقله قطرتان في الأصح كما يأتي. (قوله: مع الغسلات) أي المفروضة، وأخرج بها المسح فلا يشترط فيه تقاطر. (1/ 88) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68138کی تصدیق کریں
0     169
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات