السلام وعلیکم! مفتی صاحب میں نے سنا ہے کہ ،نفل نماز بغیر کسی عذر کے بندہ بیٹھے بیٹھے یا لیٹے ہوئےبھی پڑھ سکتا ہے، اور یہ بھی سنا ہے کہ، نفل نماز میں قبلا سمت ہونا بھی ضروری نہیں۔ مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں !شکریہ!
واضح ہو کہ نماز خواہ نفل اور سنت ہو یا فرض، عام حالات میں قبلہ رخ ہو کر پڑھنا ضروری ہے، ورنہ اس کے بغیر نماز شرعا درست ادا نہ ہوگی،البتہ دوران سفر اگر اس طرح سواری پر سفر کیا جارہا ہو کہ،اس میں قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا ممکن ہو ، (جیسے اونٹ، گھوڑا، موٹرسائکل وغیرہ)تو ایسی صورت میں فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق جس طرف سواری جاری رہی ہو، اسی طرف رخ کرکے بھی نفل نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
جبکہ بلاعذ بیٹھ کر یالیٹ کر نفل نماز پڑھنے کی صورت میں اس کا اجروثواب بھی کم ہوتاہے، بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے والےکوکھڑے ہونے والے مقابلہ میں ادھا اور لیٹ کر نماز پڑھنے والے کوبیٹھنے والے کے مقابلہ میں آدھا ثواب ملے گا۔
کما فی مشکاۃ المصابیح:"وعن عمران بن حصين: أنه سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن صلاة الرجل قاعداً؟ قال: «إن صلى قائماً فهو أفضل، ومن صلى قاعداً فله نصف أجر القائم، ومن صلى نائماً فله نصف أجر القاعد» رواه البخاري اھ(الفصل الأول، باب القصد في العمل،1 / 392)
وفی الدر المختارمع رد المحتار: "(وأما في النفل فتجوز على المحمل والعجلة مطلقاً)(قوله: مطلقاً) أي سواء كانت واقفةً أو سائرةً على القبلة أو لا، قادر على النزول أو لا، طرف العجلة على الدابة أو لا، اھ (2/ 42) واللہ اعلم