ایک شخص ہے , اس کی قضاء نمازیں رہتی ہیں،وہ نوافل(تہجد اشراق وغیرہ)پڑھنا چاہتا ہے ،کیا وہ نوافل ادا کرسکتے ہیں یا اس کو اپنی قضاء نمازیں پہلے پڑھنی ہونگی،کچھ لوگ اس کو نوافل کی ادائیگی سے منع کرتے ہیں۔
مذکور شخص کے ذمہ اگرچہ قضاء نمازیں ہیں تب بھی اس کے لئے نوافل پڑھنا جائز ہے ، چنانچہ اسے نوافل پڑھنے سے منع کرنا درست نہیں،تاہم چونکہ قضاء نمازوں کو جلداز جلد لوٹانے کا اہتمام کرنا چاہیئے اس لئے مذکور شخص کے لئے بہتر یہ ہے کہ نوافل میں مشغولیت کے بجائے جلداز جلد قضاء نمازوں کو لوٹائے تاکہ جلد از جلداس کا ذمہ فارغ ہوجائے۔