احکام نماز

مرحوم کی قضانمازوں کا فدیہ کیسے ،کہا ں اور کتنا ادا کیا جائے گا؟

فتوی نمبر :
67081
| تاریخ :
2023-08-20
عبادات / نماز / احکام نماز

مرحوم کی قضانمازوں کا فدیہ کیسے ،کہا ں اور کتنا ادا کیا جائے گا؟

کیا فرماتے ہیں علماء ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ہمارے والد مرحوم کافی عرصہ سے گردوں کی بیماری میں مبتلا تھے،اور بھی مختلف بیماریاں تھیں ،اور اس دوران ان کا انتقال ہوگیا ،انتقال سے پہلے والد صاحب نے اپنی نمازوں کے فدیہ کے متعلق کوئی وصیت نہیں کی تھی ،لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنی طرف سے والد صاحب کے آٹھ مہینے کی نمازوں کا فدیہ ادا کریں،ورثاء سب عاقل بالغ ہیں ،تو معلوم یہ کرنا ہے کہ والد صاحب کا فدیہ ادا کرنا ہمارے ذمہ لازم ہے کہ نہیں ،اور اگر ہم خود ادا کرنا چاہیں، تو کیا ترکہ سے ادا کر سکتے ہیں ،اور اس کی مقدار کیا ہوگی ،نیز اس فدیہ کا مصرف کیا ہے،کن لوگوں کو دے سکتے ہیں،تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صور ت مسئولہ میں اگر سائل کے والد مرحوم نے اپنی قضا شدہ نمازوں کے متعلق فدیہ دینے کی وصیت نہیں کی ہو ،تو ورثاء پر بھی والد مرحوم کی قضا ء نمازوں کا فدیہ دینا شرعا لازم نہیں ،تاہم تما م ورثاء اگر والد مرحوم کی ترکہ سے ان کی نمازوں کا فدیہ دینے پر رضامند ہو ں ،تو شرعاً ایسا کرنا جائز بلکہ باعثِ اجر وثواب اور والد مرحوم کے ساتھ احسان ہے ، اور ورثاء کو ایسا ہی کرنا چاہیئے،جبکہ ہر نماز کا فدیہ ایک صدقۃ الفطر کی مقدار(پونے دو کلو گندم ) کے برابر ہے ،لہٰذا وتر کے سمیت روزانہ چھ نمازوں کا فدیہ ادا کرنے سے ایک دن کی نمازوں کا فدیہ ادا ہوجائے گا ،اور بقیہ نمازوں کا حساب اسی طریقہ سےکیا جائے ۔اور فدیہ کی رقم کا مصر ف بھی وہی ہے ،جو زکوۃ کا مصرف ہے ،یعنی جس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اسکے بقدر مالِ تجارت ،نقد ی اور ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو اس کو مذکور فدیہ کی رقم دینے سے فدیہ ادا ہوجائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی




واللہ تعالی اعلم بالصواب
حشمت علی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67081کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات