منظور احمد کی زمین میں چند مردے دفن ہیں، ان مردوں کو پچاس سال ہوگئے ہیں ،اس کے بعد اس زمین میں کسی مردے کو نہیں دفنایا گیا ،جس کی یہ زمین ہے اس نے قبرستان کو و قف نہیں کی ،یہ منظو ر احمد کی ملکیت ہے ،پچاس سال پہلے اس نے چند مردوں کو دفن کرنے کی اجازت دی تھی ،کیا منظور احمد اس زمین پر فصل اگاسکتا ہے؟
سوال میں درج کردہ بیان کے مطابق مذکور زمین اگر واقعۃً قبرستان کے لئے وقف نہ کی گئی ہو ، بلکہ مسمیٰ منظور احمد کی ذاتی ملکیت ہو ،اور اس میں دفن کی جانے والی میتین مٹی بن چکی ہوں ،تو مذکور زمین میں کھیتی باڑی کرنا اور فصل اگانا جائز اور درست ہے ۔
کما فی رد المحتار على الدر المختار: وقال الزيلعي: ولو بلي الميت وصار تراباً جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ (الی قوله) جاز ذرعه والبناء علیه اذا بلی وصار تراباً اھ
وفی الرد: (قولہ کما جاز زرعه) ای القبرولو غیر المغضوب،وکذا یجوزدفن غیرہ علیه کما فی الزیلعی ایضاً(238/2)
وفی الفتاوٰی الہندیة: رَجُلٌ وَقَفَ ضَيْعَتَهُ عَلَى جِهَةٍ مَعْلُومَةٍ أَوْ عَلَى قَوْمٍ مَعْلُومِينَ ثُمَّ إنَّ الْوَاقِفَ غَرَسَ شَجَرًا قَالُوا: إنْ غَرَسَ مِنْ غَلَّةِ الْوَقْفِ أَوْ مِنْ مَالِ نَفْسِهِ لَكِنْ ذَكَرَ أَنَّهُ غَرَسَ لِلْوَقْفِ يَكُونُ لِلْوَقْفِ وَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ شَيْئًا وَقَدْ غَرَسَ مِنْ مَالِ نَفْسِهِ يَكُونُ لَهُ وَوَرَثَتُهُ بَعْدَهُ وَلَا يَكُونُ وَقْفًا، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ۔(176/2)۔والله اعلم