احکام نماز

سنت غیرمؤکدہ کی بجائے قضاء نمازیں پڑھنا

فتوی نمبر :
66868
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

سنت غیرمؤکدہ کی بجائے قضاء نمازیں پڑھنا

السلام علیکم!
میری عمر 36 سال ہے اور میں نے جان بوجھ کر اور کچھ نہا سمجھی میں نمازیں قضاء کی ہیں، کبھی پڑھتا کبھی نہیں، اب میں نے نمازیں پڑھنا شروع کی ہیں، میر اسوال یہ ہے کہ کیا میں سنتِ غیر مؤکدہ کو چھوڑ کر اس کی جگہ قضاءِ عمری یعنی جو نمازیں رہ گئی ہیں وہ پڑھ سکتا ہوں ؟ یا سنت غیر مؤکدہ پڑھنی لازمی ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو چاہئیے کہ جب بھی موقع ملے تو اپنے ذمہ وتر سمیت قضاء شدہ نمازیں ادا کرنے کا اہتمام کرے اوراگر اس کی وجہ سے سنت غیر مؤکدہ ترک کرنی پڑیں تو یہ بھی جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار وحاشية ابن عابدين : (رد المحتار) وأما النفل فقال فی المضمرات: الاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا سنن المفروضة وصلاة الضحى وصلاة التسبيح والصلاة التي رويت فيها الأخبار، اهـ أي كتحية المسجد والأربع قبل العصر والست بعد المغرب. (2/ 74)۔
و فيه ايضاً: (وقضاء الفرض والواجب والسنة فرض وواجب وسنة )لف ونشر مرتب، وجميع أوقات العمر وقت للقضاء إلا الثلاثة المنهية كما مر ، (قوله وقضاء )ذلك أول الباب أو أخره عن التفريع الآتي لكان أنسب. وأيضا قوله( الفرض إلخ) لو قدم والسنة يوهم العموم كالفرض والواجب وليس كذلك، فلو قال وما يقضى من السنة لرفع هذا الوهم رملي. (66/2)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 66868کی تصدیق کریں
0     718
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات