کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا تعلق میڈیکل شعبہ سے ہے،اور اس کے علاوہ صحافت کے شعبے میں بھی کام کرتا ہوں جوکہ میڈیکل سے تعلق رکھتاہے،اور اسی سلسلہ میں لوگوں کی رہنمائی کےلیئے یوٹیوب پر ویڈیوز بناتاہوں تاکہ لوگوں کو مختلف بیماریوں کی آگاہی حاصل ہو ،مسئلہ کچھ یوں ہے کہ بعض مضامین (بیماریاں)سمجھانے کیلئے مصنوعی کارٹون /اینمیشن کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگ اس کو باآسانی سمجھ سکیں ،لہذا اسلامی دائرۂ کار کو دیکھتے ہوئے میں آپ سے رجوع کررہاہوں کہ کیا صرف اور صرف لوگوں کی آگاہی کیلئے یہ مصنوعی کارٹون والی ویڈیوز جس میں انسانی شکل اور اعضاء کے ذریعے پیغام پہنچایاجاتاہے کیا یہ صحیح ہوگا ؟
واضح ہوکہ جاندار کی تصویر اگر صرف سکرین کی حد تک ہو چاہے موبائل میں ہو یا کمپیوٹر میں اور ان کا باقاعدہ پرنٹ آوٹ نہ لیا گیا ہو تو ان تصاویر کی حرمت میں اہلِ علم حضرات کااختلاف ہے ،ہماری تحقیق کے مطابق وہ تصاویرِ محرمہ میں داخل نہیں بلکہ ایسی تصاویر بنانے کی گنجائش ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور کارٹون اور اینمیشن اگر غیر شرعی امور (فحاشی وعریانی وغیرہ) پر مشتمل نہ ہوں تو سائل کیلئے لوگوں کو مختلف بیماریوں سے آگاہ کرنے کیلئے ایسے کارٹون /اینمیشن بنانے کی گنجائش ہوگی۔
کما فی الموسوعة الفقهية الكويتية :القول الثاني:وهو مذهب المالكية وبعض السلف، ووافقهم ابن حمدان من الحنابلة، أنه لا يحرم من التصاوير إلا ما جمع الشروط الآتية:الشرط الأول: أن تكون صورة الإنسان أو الحيوان مما له ظل، أي تكون تمثالا مجسدا، فإن كانت مسطحة لم يحرم عملها، وذلك كالمنقوش في جدار، أو ورق، أو قماش. بل يكون مكروها. ومن هنا نقل ابن العربي الإجماع على أن تصوير ما له ظل حرام.الشرط الثاني: أن تكون كاملة الأعضاء، فإن كانت ناقصة عضو مما لا يعيش الحيوان مع فقده لم يحرم،۔۔۔الشرط الثالث: أن يصنع الصورة مما يدوم من الحديد أو النحاس أو الحجارة أو الخشب أو نحو ذلك، فإن صنعها مما لا يدوم كقشر بطيخ أو عجين لم يحرم؛.(12/102
وفی تکملۃفتح الملھم:اماالتلفزون والفدیوفلاشک فی حرمۃ استعمالھا باالنظر الی مایشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ (الی قولہ) فانھا باالظل اشبہ منھا بالصورۃ ویبدو ان صورۃ التلفزون والفدیولاتستقر علی شئ فی مرحلۃ من المراحل۔اھ (4/162)