ترجمہ :ایک بچہ جو کہ سید ہے اس کی اسکول فیس زکوٰۃ کی رقم سے کیسے ادا ہوسکتی ہے ؟
واضح ہو کہ زکوة اور صدقاتِ واجبہ سے سید بچہ کی اسکول کی فیس ادا کرنا شر عاً جائز اور درست نہیں، البتہ اس کی یہ صورت ممکن ہے کہ کوئی مستحق زکوہ شخص کسی سے قرض لےکر سید بچہ کی طرف سے تبرعا فیس ادا کر دے، اس کے بعد زکوٰۃ کی رقم اس مستحق شخص کو مالک بنا کر دیدی جائے، تا کہ وہ اپناقرضہ ادا کر دے،اس طرح کرنے سے مالک کی زکوۃ بھی ادا ہو جائیگی اور سید کی ضرورت بھی پوری ہو جائیگی۔
کما فی الشامیۃ :(هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة.(ومسكين من لا شيء له) على المذهب، اھ۔
(قوله: أي مصرف الزكاة والعشر)(الی قولہ ) وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني اھ(2/399)۔
ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي - صلى الله عليه وسلم - كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم كذا في الكافي،اھ01/187)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0